تلنگانہ میں بی جے پی کے دور کا آغاز : کے لکشمن

ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر ابھرنے کا یقین ۔ صدر ریاستی بی جے پی کا بیان
حیدرآباد 24 مئی ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ کے چار لوک سبھا حلقوں میں اپنی پارٹی کی حیرت انگیز کامیابی سے مسرور بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر کے لکشمن نے آج کہا کہ ان کی پارٹی ریاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر ابھریگی اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تلنگانہ میں بی جے پی کے دور کا آغاز ہے ۔ اب ٹی آر ایس کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے ۔ بی جے پی ہی وہ واحد جماعت ہے جو ٹی آر ایس کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔ یہی تلنگانہ کے عوام کی رائے ہے ۔ اس ریاست میں بھی مودی کی لہر رہی ہے ۔ سارے ملک میں حالات مودی کے حق میں رہے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دیا کہ آیا ریاست میں بی جے پی کی کامیابی مودی لہر کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ ڈسمبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے 117 کے منجملہ 100 امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہوگئی تھیں اور وہ صرف ایک اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوسکی تھی تاہم لوک سبھا انتخابات میں اس نے حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس نے چار لوک سبھا حلقوں عادل آباد ‘ کریمنگر ‘ نظام آباد اور سکندرآباد سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ بی جے پی کے امیدوار ڈی اروند نے نظام آباد سے ٹی آر ایس کی موجودہ رکن پارلیمنٹ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کی دختر کے کویتا کو شکست سے دو چار کردیا ہے ۔ ڈاکٹر کے لکشمن نے کہا کہ اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کا ریاست سے صفایا ہوچکا ہے اور بی جے پی ریاست میں ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ سارے ملک میں کانگریس کا صفایا ہوتا جا رہا ہے ۔ جو لوگ گذشتہ ڈسمبر میں کانگریس ٹکٹ پر اسمبلی کیلئے منتخب بھی ہوئے تھے وہ بھی ٹی آر ایس میں شامل ہو رہے ہیں ایسے میں عوام کا کانگریس میں بھروسہ اور اعتماد ختم ہوچکا ہے ۔ بی جے پی ہی وہ احد جماعت ہے جو ٹی آر ایس کی کرپٹ ‘ خاندانی اور آمرانہ حکومت سے ٹکر لے سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ بھی تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ریاست تلنگانہ جنوبی ہند میں قدم جمانے اور مضبوط بنانے کیلئے ریاست تلنگانہ ایک باب الداخلہ ثابت ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT