تلنگانہ میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کانگریس کا تاریخی کارنامہ

   

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مہیش کمار گوڑ کا خطاب
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی صدر و رکن قانون ساز کونسل مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ راہول گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کرکے ملک کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ یاترا کے اختتام پر انہوں نے ’جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری‘ کا نعرہ دیا، جس پر ملک میں سب سے پہلے تلنگانہ میں عمل آوری ہوئی ہے۔ چیف منسٹر کا ریڈی طبقہ سے تعلق کے باوجود انہوں نے راہول گاندھی کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیلئے بی سی طبقہ کی مردم شماری کروائی۔ ان پر بھی بہت زیادہ دباؤ تھا باوجود اس کے انہوں نے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر بی سی سروے کرایا جس کا آج دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ اب ہر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ بی سی طبقات میں کس طبقہ کی کتنی آبادی ہے۔ اب تک صرف اندازہ کے طور پر آبادی کا تذکرہ کیا جاتا تھا لیکن کانگریس حکومت نے آبادی کے دستاویزی ثبوت پیش کئے ہیں۔ مقامی اداروں، تعلیم اور ملازمتوں میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا تلنگانہ حکومت نے تاریخی فیصلہ کیا ہے جس کیلئے وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ آج کا دن بی سی طبقات کیلئے کسی تہوار یا عید سے کم نہیں۔ ابھی تک بی سی طبقات سے ناانصافیاں ہوئی ہیں لیکن کانگریس نے 42 فیصد تحفظات فراہم کرکے ناانصافیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں تعلیم، ملازمتوں اور سیاست میں بی سی طبقات کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا۔ بی آر ایس دور میں بی سی طبقات سے ناانصافیاں ہوئی ہیں، آج کانگریس انصاف کررہی ہے تو بی آر ایس سے مگرمچھ کے آنسو بہائے جارہے ہیں۔ بی جے پی کے پاس بی سی طبقات کے فلاح و بہبود کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم خود کو بی سی طبقہ کا ظاہر کرتے ہیں لیکن انہوں نے بی سی طبقات کی ابھی تک مردم شماری نہیں کروائی۔ تلنگانہ بی جے پی کا صدر بی سی طبقہ سے تھا اس کو بھی ہٹا دیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتی وابستگی کے بالاتر ہوکر بی سی طبقات کے 42 فیصد تحفظات کو نویں شیڈول میں شامل کرانے مرکزپر دباؤ ڈالیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے کل جماعتی وفد کو دہلی لے جارہے ہیں اس میں تمام جماعتیں شامل رہیں۔ مسلمانوں کو بھی 4 فیصد تحفظات دیا جارہا ہے۔ 2