حیدرآباد : /16 جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی مالی حالت دن بہ دن انتہائی تشویشناک ہوتی جارہی ہے ۔ اپنے وسائل سے محصولات اور آمدنی بڑھانے میں بری طرح ناکام ثابت ہونے والی حکومت ریاست کو ایک ایسے قرضوں کے دلدل میں ڈھکیل رہی ہے جس سے نکلنا مشکل نظر آرہا ہے ۔ رواں ماہ جولائی کے ابتدائی 14 دنوں میں 12,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرکے تلنگانہ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ۔ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق ریونت ریڈی حکومت نے جولائی کے مہینے میں تین مرتبہ قرض حاصل کیا ۔ یکم جولائی کو سیکوریٹی بانڈز کی نیلامی کے ذریعہ 7000 کروڑ ‘/7 جولائی کو دوبارہ سیکوریٹی بانڈز کے ذریعہ 3000 کروڑ اور /14 جولائی کو ریزرو بنک آف انڈیا کے ذر یعہ مزید 2,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی حکومت نے صرف 15 دن میں اتنی بڑی رقم بطور قرض حاصل کی ہو ۔ یہاں تککہ نوٹ بندی اور کورونا بحران جیسی غیر متوقع عالمی آفتوں اور شدید مالی سست روی کے باوجود سابق کے سی آر حکومت نے کبھی بھی قرض لینے کی مقررہ حد کو اس طرح پار نہیں کیا تھا ۔ ریاست پر بڑھتے ہوئے اس معاشی بوجھ کا اندازہ پچھلے تین سالوں کے دوران اپریل سے جولائی کے مہینے تک لئے گئے قرضوں کے تقابل سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ماضی کے ریکارڈ کے مطابق جولائی 2024 ء میں قرض کا بوجھ 8,500 کروڑ روپئے ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی 2025 ء میں اسی عرصے کے دوران قرض کی رقم تقریباً 8,000 کروڑ روپئے ریکارڈ کی گئی تھی ۔ 2/y
جولائی 2026 ء میں صرف اندرون 15 یوم 12,500 کروڑ روپئے تک گراف بلندی کو چھوچکا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال میں اپریل سے لے کر اب تک حکومت نے 31,400 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ اقتصادی ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے ریاست کی اپنی آمدنی بڑھانے کے بجائے اس طرح مکمل طو ر پر قرضوں پر انحصار جاری رکھا تو تلنگانہ مستقبل قریب میں ایک ایسے ناقابل واپسی معاشی بحران کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا ۔ 2/y