بی سی ای 232 میڈیکل نشستیں، دیگر پسماندہ طبقات کیلئے بھی اضافی الاٹمنٹ
حیدرآباد۔/27 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں میڈیکل نشستوں میں اضافہ کے نتیجہ میں پسماندہ طبقات اور معاشی طور پر پسماندہ گروپس سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور ڈاکٹر بننے کا ان کا خواب پورا ہوا ہے۔ ایک سال قبل تک بھی او بی سی طلبہ کو میڈیکل سیٹ حاصل کرنے کیلئے دشواریوں کا سامنا تھا لیکن جاریہ سال تلنگانہ میں میڈیکل نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جاریہ سال ملک میں پہلی مرتبہ 878200 رینک حاصل کرنے والے مقامی طالب علم کو بھی میڈیکل سیٹ حاصل ہوئی ہے۔ کنوینر کوٹہ کے تحت بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور بی سی بی طلبہ کو نشستیں الاٹ کی گئیں۔ تلنگانہ حکومت نے 8 نئے میڈیکل کالجس قائم کئے اور بی زمرہ کی 85 فیصد نشستیں مقامی امیدواروں کیلئے مختص کی۔ اس کے علاوہ ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 6 سے بڑھاکر 10 فیصد کیا گیا۔ گذشتہ تعلیمی سال زمرہ اے کنوینر کوٹہ کے تحت تلنگانہ کے طلبہ کیلئے 3038 نشستیں دستیاب تھیں۔ 8 نئے میڈیکل کالجس کے قیام سے اس زمرہ میں نشستوں کی تعداد بڑھ کر 4094 ہوچکی ہے۔گذشتہ تعلیمی سال ایس ٹی طلبہ کو 223 نشستیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ اس مرتبہ 429 نشستیں ایس ٹی طلبہ کو الاٹ کی گئیں۔ گذشتہ سال او بی سی زمرہ کے ایک طالب علم کو 146391 رینک کے باوجود میڈیکل نشست حاصل نہیں ہوئی تھی تاہم جاریہ سال 209646 رینک کے حامل او بی سی طالب علم کو نشست حاصل ہوئی ہے۔ جاریہ سال کنوینر کوٹہ کی 4094 نشستوں میں اوپن زمرہ کے تحت 873 ، معاشی طور پر پسماندہ طبقات 196 ، ایس سی 659 ، ایس ٹی 429 ، بی سی اے 325 ، بی سی بی 759 ، بی سی سی 50 ، بی سی ای 232 اور بی سی ڈی کو 571 نشستیں الاٹ کی گئیں۔ر