تلنگانہ میں 40 لاکھ مسلمان انتہائی پسماندہ ، پانچ لاکھ افراد کو خوشحال بنانے کا عزم

   

ترکا کاشا طبقہ میں سنگ تراشی کے مشینوں کی تقسیم ، جناب عامر علی خاں ایم ایل سی کا خطاب
حیدرآباد۔30اگست(سیاست نیوز) جناب عامر علی خان جو ہمیشہ قوم او رملت کے لئے اپنے سینے میں تڑپتا دل رکھتے ہیں۔اقلیتوں کی بے باک آواز بن کرایوان قانون ساز کونسل میں گرج رہے ہیں ۔ آج تک کسی مسلم لیڈر نے بھی ہمارے مسائل اسمبلی ہو یا قانون ساز کونسل میں نہیںاٹھائے‘ جناب عامر علی خان ہی ہیں جنھو ںنے نہ صرف ہمارے مسائل کو ایوان میںاجاگر کیابلکہ حکومت سے ہمارے مسائل کے حل کے لئے بھر پور نمائندگی بھی کی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل( ایم ایل سی ) کی حیثیت سے جب عامر علی خان ہمارے اور دیگر مسلمانوں کے لئے اتنا کرسکتے ہیںتو اگر وہ وزیر بن جائیں تو پھر تلنگانہ میں مسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میں آنا مشکل بات نہیں ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار ترکاکاشا( پتھر توڑ نے سماج کے لوگ)سنگم کے ذمہ داران نے اپنی تقریر کے دوران کیا ہے ۔ محبوب حسین جگر حال ‘ ادارہ سیاست میں منعقدہ ایک میٹنگ میں مذکورہ سماج کے لوگوں کے لئے سنگ تراشی کے ایک سو مشینوں کی تقسیم عمل میںلائی گئی تھی او ریہ مشینیں عامرعلی خان کی ذاتی رقم سے خرید ی گئیں ہیں۔ ترکاکاشا سنگم کے ریاستی صدر شیخ بڑے صاحب اور جنرل سکریٹری سید شریف‘ عبدالرحمن نے ترکاکاشاسماج کے دیگر ذمہ داران خطاب کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ حکومت تلنگانہ عامر علی خان کو ضرور وزرات دے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی ہم ہمارے مسائل پر مشتمل درخواست لے کر عامر علی خاں سے رجوع ہوئے انہوں نے ہمارے لیے ہر ممکن کوشش کی اور حکومت کے فلاحی اداروں سے بھی ہمارے متعلق نمائندگی کی ہے ۔ میناریٹی فینانس کارپوریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کارپوریشن کے چیرمن عبیداللہ کوتوال سے عامر علی خان کی نمائندگی کا ترکاکاشا سنگم کے ذمہ داران نے تذکرہ کیا اور کہاکہ سنگ تراشی کے مزید مشینیں اور جنریٹرس کے لئے بھی ریاستی اقلیتی فینانس کارپوریشن سے نمائندگی کی گئی ہے جس کی جلد ہی تکمیل متوقع ہے۔ انہوں نے عامر علی خان کے لئے وزرات کی مانگ پر مشتمل تحریکیں تلنگانہ کے مختلف اضلاع میںشروع کرنے کے عزم کا بھی اظہارکیا اورکہاکہ اگر ایم ایل سی بننے پر عامر علی خان ہمارے سماج کے ساتھ اس طرح کھڑے ہیں تو ریاستی وزیر بننے کے بعد عامر علی خان یقینا ترکاکاشا سماج کے سارے مسائل حل کریں گے ۔ ترکاکاشا سماج کے ذمہ داران نے کہاکہ عامر علی خان ہمارے لئے تلنگانہ میں ایک انقلاب بن کر آئے ہیں۔ حقیقی انقلاب کی شروعات اب ہوئی ۔مشینوں کی تقسیم کے دوسرے مرحلے میں تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں سنگ تراشوں میں ایک سو مشینیں تقسیم کی گئی ہیں اور بہت جلد مزید مشینیں تقسیم کرنے کا بھی عامر علی خان ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی سینکڑوں مشینوں کی تقسیم عمل میںلائی گئی ہے ۔ مشینوں کی تقسیم کے بعد ترکاکاشا سماج کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے کہاکہ مساوات اور غریب کی مدد اسلامی تعلیمات کا اہم جز ہے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں میں ضرورت مند وں کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا پن کا سلوک دہلی سے لے کر گلی تک جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بی سی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں 45 لاکھ مسلمان ہیں جس میں 34لاکھ مسلمان معاشی پسماندگی کا شکار ہیں۔جب کہ میرے خیال میں 40 لاکھ مسلمان انتہائی پسماندہ اور 5 لاکھ خوشحال ہوں گے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ 2030تک بطور رکن قانون ساز کونسل میری معیا د ہے اور میںاس وقت تک تلنگانہ کے ایک لاکھ مسلمانوں کو لکھ پتی بنانے کا عزم کیا ہے ۔ متحدہ جدوجہد ہمارے کاموں میںآسانی پیدا کرسکتی ہے ۔ معمولی باتوں پر آپسی اختلافات کی وجہہ سے فلاحی کام متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسلام میں چھوٹے پر بڑے ‘ کالے پر گورے اور غریب پر امیر کوفوقیت ہر گز نہیں ہے ۔ مسلمان ہونا کافی ہے ‘ دنیا کے کسی کونے میں رہنے والے سیاہ فام مسلمان پر بھی ظلم ہوتا ہے تو ہمارے لئے اس کی فکر لازمی ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو نالی ‘ بنڈی میں الجھا کر رکھ دیا ہے ۔ اہم مسائل کو چھوڑ کر ہم عوامی نمائندوں کے پاس چھوٹے چھوٹے مقامی سطح کے مسائل کے ساتھ رجوع ہوتے ہیںجبکہ اہم مسئلہ قوم اور ملت کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ 42لاکھ کی آبادی والی طبقات کے لئے حکومت 9ہزار کروڑ کی اجرائی عمل میںلاتی ہے جبکہ 56لاکھ کی آبادی والوں کے لئے 17ہزار کروڑ جبکہ ہم مسلمان چالیس لاکھ سے زائد ہیں پھر بھی مسلمانوں کے لئے 2ہزار کروڑ بجٹ جاری کیاجاتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اس ضمن میںچیف منسٹر ریونت ریڈی سے میں نے ملاقات کی اور پانچ ہزار کروڑ کی اجرائی کے ذریعہ تلنگانہ کے اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرنے کی مانگ کی ہے۔ عامر علی خان نے کہاکہ راجیو یوا وکاسم اسکیم کے تحت داخل درخواستوں کی بھی جلد سے جلد یکسوئی عمل میں آئیگی ۔ ملک ترقی کرتا ہے تو مسلمانوں کی ترقی بھی ناگزیر ہے ۔ معاشی طور پر مسلمانوں کو مستحکم ہونا ضروری ہے ۔اپنے خطاب میںانہوں نے کہا کہ آزادی سے قبل 42فیصد مسلمان سرکاری ملازمتوں میں تھے مگر اب دو فیصد بھی نہیں ہیں جبکہ دو فیصد میںزیادہ تر درجہ چہارم کے ملازم ہیں۔ سیاسی میدان او ربیورکریسی میںمسلمانوں کی عدم موجودگی مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی پسماندگی کاشکار بنارہی ہے۔ سکیولرازم کی بات کرتے ہوئے عامر علی خان نے کہاکہ پورے ملک میںاگر کوئی سکیولر خاندان ہے تو وہ گاندھی فیملی ہے ۔ انہوں نے 2014میں ہندوستان کی عوام سے کئے گئے بی جے پی کے وعدوں کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ کسانو ں کی آمدنی کو دوگنا کرنا ‘ ہر شہری کے اکاونٹ میںپندرہ لاکھ روپئے آنا جیسے وعدے کرکے اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی خود دس لاکھ کا سوٹ پہن کر بیرونی دوروں پر گھوم رہے ہیں۔جناب عامر علی خان نے کہاکہ سیاست میںاگر ایمانداری کے ساتھ کام کیاجائے تو یہ کامیابی کی ضمانت ثابت ہوگی ۔وقت او رحالات تبدیل ہوں گے ‘ حوصلہ اور صبر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ منزل پر نظر رکھنے ‘ اتحاد او راتفاق کے ساتھ کام کرنے والے ایک دن ضرور کامیاب ہوجائیںگے۔