تلنگانہ وقف بورڈ درگاہ حضرت راجو قتال حسینیؒ کے مقدمات میں پیروی سے گریزاں

,

   

1300 ایکڑ موقوفہ اراضی کے 7 مقدمات کی آج تلنگانہ ہائیکورٹ میں سماعت ، وقف بورڈ نے کوئی جواب داخل نہیں کیا

حیدرآباد۔5۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ جان بوجھ کر درگاہ حضرت سید شاہ راجوقتال حسینی ؒ کے مقدمات میں پیروی سے گریز کر رہا ہے!درگاہ حضرت شاہ راجوقتال حسینی ؒ کے تحت موجود 1300 ایکڑ سے زائد موقوفہ اراضی سے متعلق زائد از 80 مقدمات تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر دوراں ہیں جن میں 7مقدمات کی سماعت 6 مئی کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی مختلف بنچوں پر مقرر ہے لیکن اس کے باوجود سی ای او وقف بورڈ کی جانب سے جواب داخل نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں اس بات کا خدشہ ہے کہ عدالت میں جاری ان مقدمات میں بھی وقف بورڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جب مقدمہ میں جواب داخل کرنے سے ہی گریز کیا جانے لگے تو ایسی صورت میں عدالت درخواست گذار کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے اسے راحت فراہم کردے گی۔ کونگرا خرد معاملہ میں کروڑہا روپئے مالیتی موقوفہ اراضی پر جہاں کئی دعویداروں کی جانب سے اس اراضی پر اپنے قبضہ کا دعویٰ پیش کرتے ہوئے اس اراضی سے متعلق گزٹ کو کالعدم قرار دینے کے احکامات حاصل کئے جا رہے ہیں ان مقدمات پر وقف بورڈ کی خاموشی معنیٰ خیز ہے کیونکہ اگر وقف بورڈ کی جانب سے مذکورہ مقدمات میں سابق چیف جسٹس آلوک ارادھے اور جسٹس این وی شرون کمار کی جانب سے رٹ اپیل نمبر 1480/2009 میں دیئے گئے احکام داخل کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت موجود 1300 ایکڑ موقوفہ اراضی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ قانونی ماہرین نے اس سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو متعد مکتوب روانہ کرتے ہوئے متوجہ کروایا تھا اور اس بات کی خواہش کی تھی کہ وقف بورڈ ان مقدمات میں جواب داخل کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرے لیکن تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے مہیشورم منڈل میں موجود اس انتہائی قیمتی اراضی کے گزٹ کو کالعدم قرار دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا جا رہاہے ۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ریاستی حکومت نے درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒکی موقوفہ اراضی کو حاصل کرتے ہوئے اس اراضی کو وقف قرار دینے کے لئے فروری 2007 میں گزٹ اعلامیہ جاری کیا تھا اور اس اراضی کو وقف بورڈ کے حوالہ کیاگیا تھا لیکن اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں اس اراضی سے متعلق گزٹ کالعدم قرار دینے کی سازشیں عروج پر ہیں اور تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے متعدد درخواستیں داخل کی جار ہی ہیں اور احکام حاصل کرتے ہوئے بتدریج اس اراضی کو قابضین کے حوالہ کیا جا رہاہے۔ بتایاجاتاہے کہ قانونی ماہرین اور خود وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل نے بھی ان مقدمات کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے مجاز عہدیداروں کو واقف کروایا لیکن ان مقدمات میں پیروی کے لئے وقف بورڈ کی جانب سے کوئی موادفراہم نہیں کیاجا رہاہے اور نہ ہی ان مقدمات میں پیروی کرنے والے وکلاء کو درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کی موقوفہ اراضیات سے متعلق دستاویزات کی فراہمی میں عمل میں لائی جا رہی ہے حالانکہ حکومت آندھراپردیش نے جس وقت اس جائیداد کے سلسلہ میں گزٹ کی اجرائی عمل میں لائی تھی اس وقت تمام دستاویزات وقف بورڈ کے پاس موجود تھے اور عہدیداروں کا کہناہے کہ مذکورہ جائیداد کے موقوفہ ہونے سے متعلق تمام شواہد کو پیش کئے جانے کے بعد ہی ریاستی حکومت نے گزٹ کی اجرائی عمل میں لائی تھی لیکن اب عدالت میں جاری مقدمات میں اسٹینڈنگ کونسل کو واضح ہدایات اور سی ای او کی جانب سے جواب داخل نہ کئے جانے کے سبب تلنگانہ وقف بورڈ کروڑہا روپئے مالیتی وقف جائیداد سے بتدریج محروم ہونے لگا ہے۔’کونگراخرد ‘ موقوفہ اراضی کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے گزٹ کے کالعدم دینے کے سنگل جج کے فیصلہ پر ڈویژن بنچ نے روک لگاتے ہوئے گزٹ اعلامیہ کو کالعدم قرار دینے کے لئے وقف جائیدادوں کے تنازعہ سے متعلق فورم’’وقف ٹریبونل‘ ‘ سے رجوع ہونے کے احکامات جاری کئے ہیں اور اس فیصلہ کو بنیاد بناتے ہوئے تلنگانہ وقف بورڈ جواب داخل کرتا ہے تو ایسی صورت میں ’کونگرا خرد‘ کی موقوفہ اراضی جو کہ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت ہے اس کے تحفظ کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میںغیر ذمہ داری اور لاپرواہی کا جو مظاہرہ کررہا ہے اس پر متعدد گوشوں سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں اور کہا جارہاہے کہ سیاسی سرپرستی میں بورڈ کی اس انتہائی قیمتی اراضی پر ’وینچرس‘ شروع کئے جانے لگے ہیں ۔ ان اراضیات پر وینچرس کے آغاز کے لئے جو سازش کی جار ہی ہے اس کے تحت لئے آؤٹ منظور کروانے کے لئے ’حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ میں درخواست داخل کی جار ہی ہے اور ایچ ایم ڈی اے سے وقف بورڈ کو موصول ہونے والے مکتوبات کا جواب دینے میں تاخیر کرواتے ہوئے ان ’وینچرس‘ کو منظورہ لے آؤٹس کے طور پر پیش کرتے ہوئے فروخت کیا جانے لگا ہے حالانکہ اس علاقہ میں کئی سروے نمبرات کو پیشرو حکومت نے ’ممنوعہ ‘ اراضیات کی فہرست میں شامل کیا تھا جو کہ اب عدالتی احکامات کے حصول کے ذریعہ اس فہرست سے خارج کی جانے لگی ہیں۔3/Y/I