کانگریس کو مسلم ماؤسٹ پارٹی قرار دینے پر تنقید، جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کا غیر معمولی رول
حیدرآباد ۔11۔ مئی (سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے بی سی امور وی ہنمنت راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف پولیس اسٹیشن عنبرپیٹ میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے پریڈ گراؤنڈ پر جلسہ عام کے دوران وزیراعظم کی جانب سے کانگریس پارٹی کو مسلم ماؤسٹ کانگریس پارٹی قرار دینے پر سخت اعتراض کیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ریمارکس کے ذریعہ کانگریس پارٹی کی توہین کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی خود ماؤسٹوں اور دہشت گردوں کا شکار ہوچکی ہے۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مسلم قائدین کا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کی تاریخ سے واقف نہیں ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو مسلم ماؤسٹ پارٹی قرار دینا انتہائی شرپسندی ہے۔ پولیس سے درخواست کی گئی کہ وزیراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کرے ، بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ مردم شماری میں او بی سی کی شمولیت کے سلسلہ میں پون کلیان کو وزیراعظم سے نمائندگی کرنی چاہئے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کانگریس پارٹی پر تنقید کئے بغیر نریندر مودی کی تقریر مکمل نہیں ہوسکتی۔ کانگریس کو ماؤسٹوں اور صرف مسلمانوں کی پارٹی قرار دینا مودی کی ذہنیت کو ثابت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خود کو او بی سی قرار دینے والے نریندر مودی ملک میں پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ مردم شماری میں ایس سی ، ایس ٹی کے علاوہ او بی سی طبقات کا زمرہ بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ نریندر مودی کو ملک کی آزادی کیلئے مسلمانوں کی قربانیوں کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنی چاہئے ۔1/k/m/b