تلنگانہ وقف بورڈ میں عہدیداروں کا لینڈ مافیا کا کردار

   

بورڈ کو غیر کارکرد بنانے من مانی فیصلے ، ملکاجگری اراضیات پر محمد مسیح اللہ کے مکتوبات
حیدرآباد۔12۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں عہدیدار ’لینڈ مافیا‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور بورڈ کو غیر کارکرد بناتے ہوئے من مانی فیصلہ کررہے ہیں۔ جناب محمد مسیح اللہ خان سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ نے ملکا جگری اراضیات کے معاملہ میں سی ای او وقف بورڈ کے سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود اور انسپکٹرجنرل اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کو روانہ کئے گئے مکتوب کو ریاست کی تمام موقوفہ جائیدادوں کے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عہدیدار اپنے اس اقدام کے ذریعہ لینڈ گرابرس کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات میں مصروف ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ سابق بی آ رایس کے دور حکومت میں خواہ ان کے صدرنشین کا دور ہو یا الحاج محمد سلیم کا دور ہوبرسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین اسمبلی کی جانب سے ان کے حلقہ کے اس طرح کے مسائل بالخصوص قطب اللہ پور اور ملکا جگری سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی جانب سے متعدد نمائندگیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن ا س کے باوجود اس طرح کے مکتوبات کی روانگی کے ذریعہ ’گزٹ‘ میں موجود اندراجات کو غلط قرار دینے کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ بی آر ایس نے موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کو روکنے کے لئے وقف بورڈ کو مکمل اختیارات فراہم کئے تھے لیکن موجودہ کانگریس دور حکومت ارباب اقتدار اور محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ وقف بورڈ کے اختیارات کو سلب کرتے ہوئے بورڈ کے اجلاس میں بھی رکاوٹ پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے ’ملکا جگری ‘ کی موقوفہ جائیدادوں کے سروے نمبرات کو غلط درج کئے جانے کے سلسلہ میں سی ای او کے مکتوب پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس مکتوب کے لئے محض سی ای او ذمہ دارہے تو فوری طورپر محمد اسداللہ کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہئے اور فوری فوجداری مقدمہ کے اندراج کے ذریعہ کاروائی کا آغاز ہونا چاہئے ۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ نے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ جائیداد کے معاملہ میں متعدد انکشافات کے باوجود وقف بورڈ کی خاموشی کے علاوہ درگاہ حضرت سید مخدوم شاہ بیابانی ؒکی 1264ایکڑ اراضی کو قانون حق حصول اراضی کے تحت معمولی رقم اداکرتے ہوئے حاصل کرنے کے اقدامات پر بورڈ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا صدرنشین بورڈ اور اراکین بورڈ کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ! انہوں نے بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود بدعنوانیوں کے ذریعہ نہ صرف وقف بورڈ بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کی املاک کو بھی فروخت کرنے کے اقدامات میں مصروف ہے اس کے باوجود ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی خاموشی معنیٰ خیر ہے اور یہ ثابت کر تی ہے کہ محمد اظہر الدین ’’ربر اسٹامپ ‘‘ ہیں کوئی اور ان کی وزارت کو اپنی نگرانی میں چلا رہاہے۔مسیح اللہ خان نے ملکا جگری معاملہ کے علاوہ دیگر معاملات میں جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تلنگانہ وقف بورڈ مذکورہ مکتوب سے دستبرداری اختیار نہیں کرتا ہے تو ایسی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔3/m/b