ایس سی اور بی سی طبقات کو نمائندگی، مسلم اقلیت نظرانداز، ایس سی طبقہ کے رام چندر نائک ڈپٹی اسپیکر ہوں گے
حیدرآباد ۔ 8 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی کابینہ میں توسیع کے ذریعہ تین وزراء کو شامل کیا گیا۔ گورنر جشنودیو ورما نے راج بھون میں منعقد تقریب میں نئے وزراء کے طور پر جی ویویک وینکٹ سوامی، اے لکشمن کمار اور وی سری ہری کو عہدے اور رازداری حلف دلایا۔ تین وزراء کی شمولیت سے تلنگانہ کابینہ کی تعداد 15 ہوچکی ہے۔ اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 وزراء کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بشمول 12 وزراء کابینہ میں شامل تھے اور مزید تین وزراء کی شمولیت سے یہ تعداد 15 تک پہنچ چکی ہے۔ مزید تین وزراء کی شمولیت باقی ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے طویل مشاورت کے بعد تین وزراء کی شمولیت کو منظوری دی ہے جس کے تحت بی سی اور ایس سی طبقات کو شامل کیا گیا ہے۔ ایس سی زمرہ میں مالا اور مادیگا ذیلی طبقات اور بی سی زمرہ میں مدیراج ذیلی طبقہ کو وزارت میں شامل کیا گیا۔ مسلم اقلیت سے کابینہ میں عدم نمائندگی سے اقلیتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ تقریب حلف برداری میں چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، اسپیکر قانون ساز اسمبلی جی پرساد کمار، صدر نشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، ٹی ناگیشورراؤ، پی سرینواس ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، دامودر راج نرسمہا، پونم پربھاکر، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، ڈی انوسویا سیتکا، کونڈا سریکھا، ڈی سریدھر بابو، رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان، ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جتیندر، کمشنر پولیس سی وی آنند، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کودنڈا رام، میئر حیدرآباد وجئے لکشمی، عوامی نمائندوں اور اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر ڈورنکل ضلع محبوب آباد کے رکن اسمبلی رام چندر نائک کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رام چندر نائک کے تقرر سے ایس ٹی طبقہ کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔ کابینہ میں شامل کئے گئے جی ویویک وینکٹ سوامی منچریال ضلع کے چنور اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ اے لکشمن کریم نگر ضلع کے دھرماپوری اور وی سری ہری محبوب نگر کے مکتھل اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جی ویویک وینکٹ سوامی کانگریس کے قد آور قائد آنجہانی جی وینکٹ سوامی کے فرزند ہیں۔ 2009 میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر پداپلی لوک سبھا حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران 2013 میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور 2014 میں کانگریس میں واپس ہوگئے۔ انہیں پداپلی حلقہ سے ٹکٹ دیا گیا لیکن وہ ناکام رہے۔ ویویک 2016 میں دوبارہ بی آر ایس میں شامل ہوئے اور 2019 میں لوک سبھا ٹکٹ سے محرومی پر ناراض ہوگئے اور الیکشن کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ 2023 میں وہ دوبارہ کانگریس میں واپس ہوئے اور چنور اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ۔ ان کے فرزند ومشی چندر پداپلی لوک سبھا حلقہ سے منتخب ہوئے۔ اے لکشمن اور وی سری ہری دونوں اسمبلی کیلئے پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ 1
تلنگانہ کابینہ میں دوسری مرتبہ توسیع !‘ مسلمان پھر نظر انداز مسلمانوں میں شدید ناراضگی
حیدرآباد 8 جون ( سیاست نیوز ) تلنگانہ کابینہ میں ایک بار پھر توسیع کی گئی، جس میں تین نئے وزراء کو شامل کیا گیا، جن میں جی ویویک وینکٹ سوامی، ادلوری لکشمن کمار، اور سری ہری شامل ہیں۔ لیکن اس مرتبہ بھی کسی مسلمان کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی، جو ریاست کے تقریباً 12.5 فیصد مسلمان آبادی رکھنے والی تلنگانہ کیلئے بڑی توہیں سمجھی جا رہی ہے۔ کانگریس حکومت نے اس توسیع میں درجہ فہرست طبقات اور بی سی کو ترجیح دی ہے، لیکن مسلمان لیڈر غائب رہے۔ اس فیصلے پر بی آر ایس سمیت مسلم قایدین سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ یہ تاریخ کی پہلا موقع ہے جب متحد آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی تاریخ میں، ریاست کی کابینہ میں ایک بھی مسلمان وزیر نہ ہو۔ کانگریس مسلم قایدین میں بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سینیئر قایدین نے خبردار کیا کہ مسلمان قایدین کو وزارت سے باہر رکھنا پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ پارٹی موقف بیان کرتا ہے کہ چونکہ موجودہ کابینہ کے ارکان سب نئے منتخب ایم ایل اے ہیں اور کوئی مسلمان ایم ایل اے کانگریس ٹکٹ سے منتخب نہیں ہوا، اس لیے مسلمان نمائندگی نہ ہونے کا بہانہ دیا گیا، تاہم مسلمانوں کو ایم ایل سی کے ذریعے منتخب کرنے سے کابینہ میں جگہ دی جاسکتی تھی۔ریاست کے 119 رکنی اسمبلی میں سے 18 وزرا کیلئے جگہ دستیاب ہے۔ اس وقت کابینہ میں چھ نشستیں خالی ہیں، مگر پچھلے 17 ماہ میں کوئی مسلمان نمائندہ وزارت میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعض مسلم تنظیموں نے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونا ایک رویہ امتیاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ خلافی نہ کی جائے۔ تلنگانہ کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی نہ دینے کا معاملہ ایک سیاسی موضوع بن گیا ہے جس نے ریاست کی سیاسی جماعتوں اور مسلم طبقے کے درمیان ناراضگی کو جنم دیا ہے۔ ریاست میں تین نئے اراکینِ اسمبلی نے اتوار کو وزرا کے طور پر حلف لیا۔ گورنر نے راج بھون میں جی ویوک وینکٹ سوامی، اے لکشمن، اور وی سری ہری کو حلف دلایا۔ تقریب میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی، قانون ساز کونسل چیئرمین جی سکھیندر ریڈی، اسمبلی اسپیکر جی پرساد کمار، ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا، کئی وزراء ، چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ، ڈی جی پی ڈاکٹر جتیندر، مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی، اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ و اسمبلی شریک ہوئے۔اس شمولیت کے ساتھ ریاستی کابینہ میں وزراء کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ تینوں وزراء پہلی بار اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ چنورحلقہ رکن اسمبلی وویک وینکٹ سوامی ماضی میں رکنِ پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ اے لکشمن، دھرماپوری حلقہ اور وی سری ہری، مکتھل حلقہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔