تلنگانہ کو قرض کی تنظیم جدید کا موقع دیا جائے ‘ چیف منسٹر کی نمائندگی

,

   

تلنگانہ کو ٹیکس حصہ 41 کی بجائے 50 فیصد کرنے کی سفارش پر زور ۔ ریونت ریڈی و ریاستی وزراء کی 16 ویں فینانس کمیشن سے ملاقات

حیدرآباد 10 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج 16ویں فینانس کمیشن کے صدرنشین اور اراکین سے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں خواہش کی کہ وہ مرکزی حکومت سے سفارش کرکے تلنگانہ کو ٹیکس حصہ کو 41فیصد سے بڑھا کر50 فیصد کریں تاکہ تلنگانہ جو قرض کے بوجھ تلے دبی ہے اسے قرض کی ادائیگی میں آسانی ہوسکے ۔ چیف منسٹر نے اجلاس میںصدرنشین 16ویں فینانس کمیشن مسٹر اروند پنا گریا کو بتایا کہ ریاستی حکومت ملک کو دنیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے مرکزکے منصوبہ کے ساتھ چلنے تیار ہے بلکہ ریاست کو ٹریلین معیشت بنانے کی منصوبہ بندی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 10 برسوں میں ملک کی سب سے کم عمر ریاست تلنگانہ کی تعمیر و ترقی کیلئے کافی قرض حاصل کیا ہے اور اس کے ذریعہ ریاست کی ترقی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت ملک میں مالیاتی وفاق کو مستحکم بنانے آپ کی مدد کی خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ سے جو درخواست کی گئی اگر کمیشن اپنی سفارشات میں انہیں شامل کرتا ہے تو حکومت کو یقین ہے کہ تلنگانہ کو درپیش مالیاتی مسائل سے نمٹنے میں آسانی ہوگی اور کمیشن کی سفارشات تلنگانہ کے معاشی استحکام کیلئے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔ چیف منسٹر نے فینانس کمیشن کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ ریاست کو معاشی بحران سے نمٹنے قرض کی تنظیم جدید کا موقع فراہم کرے یا پھر ملک کی سب سے کم عمر ریاست کو اضافی مالی امداد کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 10 برسوں میں محصلہ قرض سے ریاست کو آمدنی کا بڑا حصہ قرض کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قرض اور سود کی ادائیگی کا نظم بہتر نہ ہونے کی صورت میں تلنگانہ کی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے حکومت کو قرض کی تنظیم جدید یا اضافی مالیہ کی فراہمی کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔انہو ںنے بتایا کہ گذشتہ 10 برسوں میں ریاست پر 6.5لاکھ کروڑ کے قرض کے بوجھ عائد ہوئے ہیں۔ ان قرضہ جات میں بجٹ میں شامل اور بجٹ کے باہر کے قرضہ جات جو حاصل کئے گئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی معاشی بنیادیں مضبوط و مستحکم ہیں اس کے باوجود معاشی طور پر ریاست کو کئی چیالنجس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی تیز رفتار معاشی و اقتصادی ترقی کی حامل ریاستوں میں شامل ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کو ملک کے مستقبل کی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی مدد کیلئے اگر مرکزآگے آتا ہے تو اس ریاست کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی جو کہ مرکزی حکومت کے 5ٹریلین ڈالر معیشت کے منصوبہ میں مددگار ثابت ہوگی علاوہ ازیں اس منصوبہ کو پورا کرنے میں تلنگانہ کا کلیدی کردار ہوگا۔چیف منسٹر اور صدرنشین کمیشن اروند پناگریا و اراکین کمیشن کی ملاقات میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک‘ وزیر آبپاشی کیپٹن این اتم کمار ریڈی ‘ وزیر پی سرینواس ریڈی ‘ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو‘ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر‘ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘وزیر عمارات و شوارع ‘چیف سیکریٹری محترمہ شانتی کماری ‘ ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جتیندر و دیگر محکمہ جات کے عہدیدار موجود تھے ۔3