شہری مقامی بلدیات میں اصلاحات لانے کیلئے تلنگانہ کو ملک کی تیسری ریاست کا درجہ
حیدرآباد : تلنگانہ نے اربن لوکل باڈیز اصلاحات لانے میں ملک کی تیسری ریاست کا درجہ حاصل کیا ہے۔ مرکزی وزارت فینانس کے محکمہ مصارف نے تلنگانہ کو اوپن مارکٹ کے ذریعہ 2508 کروڑ روپئے کے زائد مالیتی وسائل حاصل کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ جن دیگر دو ریاستوں نے اربن لوکل باڈیز اصلاحات کو پورا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اِن میں آندھراپردیش اور مدھیہ پردیش شامل ہیں۔ اِن تین ریاستوں کی مشترکہ طور پر حاصل کی جانے والی رقم 7406 کروڑ روپئے ہوگی۔ سرکاری ریلیز میں بتایا گیا کہ اربن لوکل باڈیز اور اربن اداروں میں اصلاحات لانے کا مقصد ریاست میں انھیں مالیاتی طور پر مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ صحت عامہ کے لئے بہتر طبی خدمات فراہم کرسکیں۔ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول بھی دے سکیں۔ معاشی طور پر مستحکم اربن لوکل باڈیز بہترین شہری انفراسٹرکچر بنانے کے بھی قابل ہوں گے۔ اِن اصلاحات سے اربن لوکل باڈیز میں جائیداد ٹیکس کی فلور شرح کا اعلامیہ بھی شامل کیا گیا ہے جو موجودہ سرکل شرحوں کے مطابق ہوں گے۔ جائیدادوں کے لین دین کے لئے بھی شرح مکمل کرنے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ یوزر چارجس کے لئے بھی دفعات بنائے گئے ہیں۔ پانی کی سربراہی، ڈرینج اور سیوریج وغیرہ کے موجودہ اخراجات اور ماضی کے افراط زر کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کو وسائل اکٹھا کرنے اور کوویڈ ۔ 19 سے درپیش چیالنجس سے نمٹنے کے لئے مالیاتی طور پر مستحکم بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے 17 مئی 2020 ء کو ریاستوں کے حصول رقم کی حد میں 2 فیصد کا اضافہ کیا تھا۔ ریاستوں کو ہر ایک شعبہ میں اصلاحات کی تکمیل پر جی ایس ڈی پی کا 0.25 فیصد کے مساوی زائد فنڈ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اب تک 10 ریاستوں نے ون نیشن ون راشن کارڈ سسٹم پر عمل آوری شروع کی ہے۔ 7ریاستوں نے تجارت کو آسان بنانے کے لئے اصلاحات لائے ہیں اور 3 ریاستوں نے مقامی بلدیات میں اصلاحات انجام دیئے ہیں۔ اِس کے لئے تمام اضافی رقم کی حصولی کی اجازت کی رقم 54,190 کروڑ ہوگی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد اور دیگر مقامی بلدیات میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام انجام دیئے جارہے ہیں۔