بی آر ایس کے دور میں ٹی راجیا اور ایٹالہ راجندر کانگریس کے دور حکومت میں ایک خاتون وزیر کے خلاف کارروائی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ کی سیاست میں گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید تنازعات اور سیاسی گھمسان کے بعد بالآخر ایک بڑا اور سنسنی خیز ڈرامائی موڑ آگیا ہے ۔ کانگریس ہائی کمان کی منظوری کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی وزیر انڈومنٹ کونڈا سریکھا کی کابینہ سے برطرفی کی سرکاری سفارش پر مبنی مکتوب لوک بھون کو بھیج دیا ۔ جس کو گورنر کی منظوری حاصل ہوگئی ۔ چیف منسٹر اے ر یونت ریڈی کے اس تاریخی اور سخت اقدام سے تلنگانہ کی سیاسی تاریخ میں ایک بالکل نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے ۔ کونڈا سریکھا ریاست تلنگانہ کی تشکیل ( 2014 ) کے بعد سے اب تک کابینہ سے برطرف کی جانے والی پہلی خاتون وزیر بن کر تاریخ میں درج ہوگئی ہیں ۔ دسمبر 2023 میں اقتدار میں آنے والی کانگریس حکومت کے دور میں کسی بھی وزیر کی یہ پہلی برطرفی ہے ۔ 2014 میں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے اب تک یہ مجموعی طور پر تیسرا موقع ہے جب کسی وزیر کو وزارتی عہدے سے بے دخل کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کی 12 سالہ تاریخ میں ماضی کے دوران جن وزراء کو برطرفی کا سامنا کرنا پڑا ان کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے ۔ بی آر ایس حکومت کی پہلی میعاد کے دوران 2015 میں ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر صحت ڈاکٹر ٹی راجیا بی آر ایس کے دوسری میعاد کی حکومت میں وزیر صحت کی حیثیت سے خدمات انجام والے ایٹالہ راجندر کو برطرف کیا گیا اس وقت کے چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر تھے ۔ ٹی راجیا پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہونے کے بعد انہیں وزارت سے برطرف کردیا گیا تھا ۔ سال 2021 میں وزیر صحت کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایٹالہ راجندر پر پسماندہ طبقات کے لیے مختص کردہ اراضی پر غیر مجاز قبضہ کرنے کے الزامات کے بعد انہیں وزارت سے برطرف کیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کابینہ میں وزیر انڈومنٹ کو سیاسی ایکشن کا نشانہ بننا پڑا ہے ۔ کانگریس ہائی کمان سے مشاورت کے بعد چیف منسٹر نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔ 2/m/b