کانگریس پارٹی کا الزام، تلنگانہ میں چندرا بابو نائیڈو کے داخلہ کیلئے کے سی آر ذمہ دار
حیدرآباد۔/21ڈسمبر،( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے سے تلنگانہ عوام کی توقعات کو نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کی تشکیل کے ذریعہ کے سی آر نے تلنگانہ کے مفادات کو خطرہ پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان ذاتی مفادات اور سیاسی فائدہ کیلئے ریاست کے مفادات کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ تلنگانہ عوام نے 2014 میں ٹی آر ایس کو اقتدار حوالے کیا حالانکہ کانگریس پارٹی نے علحدہ ریاست تشکیل دی۔ تلنگانہ کی تشکیل کے ذریعہ کانگریس نے دونوں تلگو ریاستوں میں سیاسی نقصان کی پرواہ نہیں کی۔ عوام کو یہ احساس تھا کہ تلنگانہ کے مفادات کیلئے علاقائی پارٹی جدوجہد کرسکتی ہے۔ کے سی آر نے سیاسی عزائم کو توسیع دیتے ہوئے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کردیا جس سے تلنگانہ کے مفادات متاثر ہوں گے۔ نرنجن نے کہا کہ سابق میں کے سی آر اور ان کے قائدین کہہ چکے ہیں کہ ریاست میں آندھرائی پارٹیوںکی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن اب وہ آندھرا پردیش میں بی آر ایس کے قیام کی تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں کئی شعبہ جات میں اختلافات موجود ہیں۔ کے سی آر آندھرا پردیش میں اپنی بقاء کیلئے تلنگانہ عوام کے مفادات پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگس اسکام میں کے سی آر کی دختر کویتا کا ملوث ہونا ثابت ہوچکا ہے اور سی بی آئی تحقیقات کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اپنی دختر کو ملک بھر میں شراب کے کاروبار کی اجازت کیلئے کے سی آر نے بی آر ایس قائم کی ہے ؟ ۔ تلنگانہ جاگرتی کے نام پر کئی غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ بی آر ایس کے قیام کے بعد چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ میں سرگرمیوں کے آغاز کا موقع مل چکا ہے اور انہوں نے کھمم میں جلسہ عام منعقد کیا۔ تلنگانہ کے عوام کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں مناسب سبق سکھائیں گے۔ر