حیدرآباد۔27۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں گورنر کی تبدیلی کے امکانات میں اضافہ ہونے لگا ہے! ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن کو تبدیل کرنے کی مرکزی حکومت کی جانب سے تیاری کی جانے لگی ہے! یکم ستمبر 2019 کو مرکزی حکومت نے ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن کو گورنر تلنگانہ بنائے جانے کے احکامات جاری کئے تھے اور 9 ستمبر کو انہو ںنے اپنی نئی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا تھا۔ تلنگانہ میں گورنر کے عہدہ پر تقرر سے قبل ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن ٹاملناڈو میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی صدر کے عہدہ پر تھیں ۔ تلنگانہ گورنر کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے بعد انہیں لیفٹننٹ گورنر پڈو چیری کی زائد ذمہ داری تفویض کی گئی تھی ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد شروع ہونے والی قیاس آرائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا رہاہے کہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن کو گورنر تلنگانہ کے عہدہ سے ہٹاتے ہوئے تلنگانہ کے لئے نئے گورنر کے تقرر کے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں اور انہیں پڈو چیری لیفٹننٹ گورنر کی مکمل ذمہ داری تفویض کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں بعض اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن نے دوبارہ سرگرم سیاست میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی بھی کررکھی ہے اور انہوں نے اپنے اس فیصلہ سے مرکزی حکومت کو واقف بھی کروایا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ وہ حکومت کے فیصلہ کے مطابق ہی اپنا مستقبل دیکھ رہی ہیں ۔ 2
ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن کے گورنر تلنگانہ کی حیثیت سے تقرر کے بعد کہا جا رہاتھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ میں ’آپریشن بی آر ایس ‘ کے لئے انہیں یہ ذمہ داری تفویض کی تھی لیکن مرکزی حکومت کو اپنے اس مقصد میں ناکامی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں انہیں تلنگانہ سے ہٹانے کی حکمت عملی پر غور کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔