تلنگانہ ہائی کورٹ کی نئی عمارت کے تعمیری کاموں کا جلد آغاز

   

چیف جسٹس نے پلان کو منظوری دی، 100 ایکر اراضی پر ہائی کورٹ اور ججس کی رہائشی عمارتیں
حیدرآباد۔/22 ستمبر، ( سیاست نیوز) راجندر نگر میں واقع اگریکلچر یونیورسٹی کی 100 ایکر اراضی پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کا جلد آغاز ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی عمارت کے ڈیزائن کو چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ الوک ارادھے نے منظوری دے دی ہے۔ نئی عمارت کے سلسلہ میں کئی پلان چیف جسٹس کو پیش کئے گئے اور انہوں نے ساتھی ججس کے صلاح و مشورہ سے ایک ڈیزائن کو منظوری دے دی۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے چار مختلف ڈیزائن چیف جسٹس کو پیش کئے۔ چیف جسٹس نے آر اینڈ بی عہدیداروں کو طئے شدہ پلان سے واقف کرایا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی منظوری کے بعد تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر کے دفتر کو ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا منصوبہ روانہ کردیا گیا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق اندرون ایک ہفتہ چیف منسٹر منصوبہ کو منظوری دیں گے۔ حکومت نے چیف جسٹس ہائی کورٹ کی خواہش پر اگریکلچر یونیورسٹی کی 100 ایکر اراضی مختص کی ہے جہاں ہائی کورٹ کی عمارت کے علاوہ ججس کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ جملہ 40 عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ حکومت تقریباً 1000 کروڑ کے خرچ سے 18 ماہ میں ہائی کورٹ کامپلکس کی تکمیل کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تعمیری کاموں کیلئے 19 آرکیٹکٹ کمپنیوں نے پیشکش کیا ہے۔ پلان کی منظوری کے بعد تعمیری کمیٹی کسی ایک کمپنی کا انتخاب کرتے ہوئے تعمیری کاموں کے آغاز کی اجازت دے گی۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے کامپلکس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ واضح رہے کہ اگریکلچر یونیورسٹی کے طلبہ 100 ایکر اراضی ہائی کورٹ کیلئے الاٹ کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یونیورسٹی کی ریسرچ سے متعلق سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔1