n شہریت ترمیمی بل دوبارہ لائیں گے n پورے ملک کا احاطہ کریں گے
n آرٹیکل 371کی تنسیخ کے تعلق سے اندیشوں کی ضرورت نہیں
n نارتھ ۔ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس کی میٹنگ سے امیت شاہ کا خطاب
گوہاٹی۔9ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شہریت ( ترمیمی) بل کو فراموش نہیں کیا گیا ہے اور اسے دوبارہ لایا جائے گا ، وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو یہ بات کہی ، لیکن شمال مشرقی ریاستوں کی فکرمندی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی کہ اس خطہ کیلئے مخصوص خصوصی قوانین کو چھیڑا نہیں جائے گا ۔ امیت شاہ نے یہ ادعا بھی کیا کہ مرکز محض آسام سے نہیں بلکہ پورے ملک سے تمام غیرقانونی تارکین وطن کو نکال باہر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ متنازعہ قطعی قومی رجسٹرِ شہریان ( این آر سی ) جس نے آسام کے مکینوں کی ہندوستانی شہریت کی تصدیق کی ہے ، اُس کی 31اگست کو اشاعت کے بعد سے پہلی مرتبہ دارالحکومت آسام کا دورہ کرتے ہوئے بی جے پی سربراہ نے دستور ہند کے آرٹیکل 371 کی تنسیخ کے تعلق سے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کی ۔ انہوں نے بی جے پی کے حلیفوں کی میٹنگ میں کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے اس خطہ کی تمام ریاستوں کے موجودہ قوانین بدستور قائم رہیں ، کیونکہ انہیں شہریت ترمیمی بل متعارف کرانے کے بعد چھیڑا نہیں گیا ہے ۔ ہم اس خطہ کے مختلف ریاستوں کیلئے قابل اطلاق ان قوانین میں سے کسی کو بھی چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں ۔ بی جے پی کے حلیف پارٹیاں نارتھ ۔ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس ( نیڈا) کا حصہ ہیں ۔ امیت شاہ نیڈا کے چوتھے اجتماع سے مخاطب تھے ۔ یہ اتحاد مرکز کے برسراقتدار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس ( این ڈی اے ) کا شمال مشرقی چربہ ہے ۔ امیت شاہ میگھالیہ ، ناگالینڈ اور میزورم کے چیف منسٹرس ترتیب وار سی سنگما ، این ریوو اور زورم تھنگا کی جانب سے ظاہر کردہ تشویش کا جواب دے رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بعض چیف منسٹروں نے شہریت ترمیمی بل کو دوبارہ متعارف کرنے کے نتائج کے تعلق سے اندیشے ظاہر کئے ہے کیونکہ اس سے متعلقہ ریاستوں کی آبادی کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی ریاستوں کو شہریت ترمیمی بل کے دائرہ کار سے باہر رکھا جائے ۔ یہ بل 8جنوری کو لوک سبھا نے منظور کرلیا لیکن اسے راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا جاسکا ۔ کیونکہ ان کے کئی حصوں میں برہمی پیدا ہوگئی تھی ، خاص طور پر شمال مشرق میں کافی اندیشے ظاہر کئے گئے جہاں بی جے پی کے حلیفوں نے سنگما کی قیادت میں اس کے خلاف احتجاج کیا ۔ یہ بل ہندوؤں ، جین ، عیسائیوں ، سکھوں ، بدھسٹوں اور پارسی لوگوں کو جن کا بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے تعلق ہے انہیں 12سال کی بجائے ہندوستان میں 7سال قیام پر ہندوستانی شہریت فراہم کی جائے گا ۔ موجودہ طور پر 12سال کا قاعدہ ہے چاہے وہ کوئی بھی دستاویز رکھتے ہوں یا نہیں ۔ وزیر داخلہ نے یہ ادعا بھی کیا کہ شہریت ترمیمی بل کیلئے قطعی مہلت کی تاریخ بدستور 31ڈسمبر 2014ء برقرار رہے گی ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے نہایت واضح ہے کہ کوئی دیگر تاریخ نہیں دی جائے گی اور آرٹیکل 371 نیز بعض متعلقہ قوانین کو چھیڑا نہیں جائے گا ۔