جائیدادوں پر تنازعہ، ملک میں جرائم کی شرح میں اضافہ

   

پراپرٹی کرائم میں اترپردیش اور مہاراشٹرا سرفہرست، جائیداد کی تقسیم پر اختلاف کا جرم پر خاتمہ
حیدرآباد۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں اراضی سے متعلق جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں تو سماج میں جرائم کی مختلف وجوہات ہیں لیکن وراثت کی تقسیم اور جائیدادوں پر بری نظروں نے خاندانوں میں اختلافات کو جرائم کی حد تک پہنچا دیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 2025 میں ہندوستان میں جائیدادوں کے تنازعات سے متعلق جرائم 2.27 لاکھ درج کئے گئے۔ جرائم کی اس فہرست میں اترپردیش 28 ہزار کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے۔ مہاراشٹرا میں 22 ہزار اور بہار میں ایک سال کے دوران جائیدادوں سے متعلق تنازعات کے 18 ہزار جرائم درج کئے گئے۔ سروے کے مطابق زائد آبادی والی ریاستوں میں پراپرٹی سے متعلق تنازعات کی تعداد اور جرائم کی فہرست بھی طویل ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں جائیدادوں سے متعلق جرائم کافی کم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کو سیول تنازعات کی بروقت یکسوئی کے سلسلہ میں حکمت عملی طے کرنی چاہئے کیونکہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جائیدادوں اور اراضیات کے تنازعات سیدھے پولیس تک پہنچتے ہیں لیکن پولیس سیول معاملات میں مداخلت سے گریز کرتی ہے جس کے نتیجہ میں خاندانوں کے درمیان لڑائی کسی نہ کسی جرم کی صورت میں منظر عام پر آتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں کولکتہ میں جائیداد سے متعلق 16 ہزار جرائم درج کئے گئے جبکہ مدھیہ پردیش میں 14 ہزار اور راجستھان میں 13 ہزار واقعات منظر عام پر آئے۔ آندھرا پردیش میں 9500 اور تلنگانہ میں 7500 جائیداد سے مربوط جرائم کی نشاندہی کی گئی۔ 1؍F