بہار اور مغربی بنگال کے الیکشن کو منسوخ کیاجائے، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا انٹرویو
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی نے الیکشن کمیشن کے گزشتہ دیڑھ سال کے فیصلوں کی جانچ اور گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک قومی نیوز چیانل سے بات چیت کرتے ہوئے ایس وائی قریشی نے انڈین ایکسپریس میں الیکشن کمیشن سے متعلق رپورٹ کو تشویشناک اور دھماکہ خیز انکشافات سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دیڑھ برس میں الیکشن کمیشن مسلسل قانون کی سنگین خلاف ورزی کا مرتب ہوا ہے۔ 1993 میں مرکزی حکومت نے ایک رکنی الیکشن کمیشن کے بجائے تین رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا اور الیکشن کمیشن قانون میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ فیصلے متفقہ طور پر کئے جائیں گے ۔ کسی اختلاف رائے کی صورت میں اکثریتی بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ تینوں الیکشن کمشنرس کو مساوی حقوق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں الیکشن کمشنرس کو گیانیش کمار نے اعتماد میں نہیں لیا اور یکطرفہ طور پر فیصلے کرتے رہے ۔ اکثر و بیشتر چار ماہ کی مدت میں ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور گیانیش کمار نے تمام فیصلے یکطرفہ طور پر کئے جوکہ غیر قانونی ہے۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں شفافیت ہونی چاہئے اور گزشتہ دیڑھ سال کے تمام فیصلوں کی فہرست تیار کرتے ہوئے عوام کے روبرو پیش کی جائے جس میں اس بات کی وضاحت رہے کہ کتنے فیصلے متفقہ کئے گئے اور کتنے اکثریتی بنیاد پر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں الیکشن کمشنرس کو نظر انداز کرکے گیانیش کمار کا فیصلے کرنا غیر قانونی ہے اور ایسے تمام فیصلوں کو کالعدم کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اختلاف فطری ہے لیکن فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کو زیادہ جمہوری ہونے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ گزشتہ دیڑھ سال کے فیصلوں کی فہرست طلب کریں۔ ذرائع کے حوالے سے خبروں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ایس وائی قریشی نے کہا کہ اگر گیانیش کمار میں ہمت ہو تو وہ عہدیدار کے ذریعہ بیان جاری کرنے کے بجائے ساتھی الیکشن کمشنرس کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اخباری رپورٹ کی تردید کریں۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ وہ حالیہ دنوں میں دونوں الیکشن کمشنرس کی خاموشی پر حیرت میں تھے اور ان پر ترس بھی آتا تھا ۔ اب جبکہ دونوں الیکشن کمشنرس کی جانب سے اختلافی نوٹ تحریر کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس سے میرے دل میں ان کی عزت میں اضافہ ہوگیا۔ سابق چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت یا اخراج کا مکمل اختیار الیکٹورل ریٹرننگ آفیسر (ERO) کو ہوتا ہے جو سب ڈیویژنل مجسٹریٹ رتبہ کے عہدیدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، چیف الیکٹورل آفیسر اور حتیٰ کہ چیف الیکشن کمشنر کو بھی ناموں کی شمولیت کے اخراج کا اختیار حاصل نہیں۔ الیکشن کمیشن نے ای آر او کے اختیارات کو فراموش کرکے نئی دہلی میں کمپیوٹر سسٹم کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کی جس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے دو سالہ میعاد کے دوران ایچ آر برہما اور سمپت الیکشن کمشنرس تھے اور تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار نے دستور اور قانون سے کھلواڑ کیا اور اب حقائق منظر عام پر آچکے ہیں ، لہذا تینوں الیکشن کمشنران کو پریس کانفرنس میں وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ بہار و مغربی بنگال کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر دوبارہ الیکشن کی ہدایت دیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ لاکھوں عوام کو ووٹ کے دستوری حق سے محروم کیا گیا۔1/k