جج کو دھمکی کا معاملہ بی جے پی نے چیف جسٹس سے رجوع کیا

   

کولکتہ: آسنسول کی خصوصی عدالت نے گرچہ انوبرتا منڈل کی درخواست ضمانت کو رد کردیا ہے اور انہیں 14دنوں کے لئے جیل کی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ سنا یا ہے ۔تاہم انوبرتا منڈل کے معاملے کی سماعت کرنے والے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج کو دھمکی آمیز خط کے معاملے کو بی جے پی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس وی رمنا سے ملاقات کرکے رکھاہے ۔آسنسول کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج راجیش چکرورتی کو کل دھمکی آمیز خط ملا تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ خط بپا چٹوپادھیائے نامی شخص نے لکھا ہے ۔ حالانکہ انوبرتا منڈل نے خود اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اب پولیس نے اس واقعہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ اس دوران سی بی آئی اس واقعہ پرسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مگر اس سے قبل بی جے پی نے اس معاملے کو چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے کھ دیا ہے ۔ بی جے پی کا وکلاء کے سیل نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کیا ہے ۔اس خط میں دھمکی دیتے ہوئے کہا گا تھا کہ اگرانوبرتا منڈل کو ضمانت نہیں دی گئی تو جج کے خاندان کو منشیات کے معاملے میں پھنسایا جائے گا۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ کے وکیل کبیر شنکر بوس سمیت تین وکلاء نے چیف جسٹس سے ملاقات کے لئے وقت طلب کیا تھا۔چیف جسٹس این وی رمنا نے دوپہر میں وکلاء سے ملاقات کے لئے وقت دیا ۔انوبرتا منڈل نے آج عدالت میں پیشی کے دوران کہا کہ انہیں مزید پھنسانے کے لئے یہ حربہ آزمایا گیا ہے ۔میں خود اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتا ہوں۔درگاپور پولیس کمشنریٹ کی پولیس نے بھی اس پورے واقعہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ جج نے پورے معاملے کی اطلاع پولیس کمشنر کو تحریری طور پر دی ہے ۔ اس سے قبل منگل کو ریاستی اپوزیشن لیڈر سبویندو ادھیکاری نے اس خط کے حوالے سے کہا تھا، ‘‘مغربی بنگال میں ججوں کو بھی تحفظ نہیں ہے ۔’’ اس لیے میں کہوں گا کہ کیس کو ریاست سے باہر بھیجا جائے ۔ بنگال میں جنگل راج چل رہا ہے ۔