جوبلی ہلز اجتماعی عصمت ریزی واقعہ ‘ چھٹا ملزم بھی گرفتار ‘مکمل شواہد کی بنیاد پر کارروائی : کمشنر

   

پانچ ملزمین پر عصمت ریزی اور چھٹے پر دست درازی کا مقدمہ ۔ جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ‘ عمر قید اور پانچ تا سات سال سزائیں ممکن ۔ خصوصی پوکسو عدالت میں مقدمہ چلایا جائیگا

حیدرآباد۔7۔ جون (سیاست نیوز) گزشتہ ایک ہفتہ سے شہر میں سنسنی پھیلانے والے جوبلی ہلز اجتماعی عصمت ریزی معاملہ میں بالآخر پولیس نے مزید دو کم عمر ملزمین بشمول ملزم نمبر 6 کو گرفتار کرلیا۔ جس طرح سوشل میڈیا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں پولیس نے بھی بالآخر چھٹے نوجوان کو گرفتار کرکے دست درازی کا ملزم قرار دیدیا ۔ پولیس کمشنر حیدرآباد سی وی آنند نے اس کیس سے متعلق تمام تفصیلات آج رات ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جملہ 6 ملزمین ہیں اور تمام کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔ سی وی آنند نے کہا کہ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کثرت سے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کے ملزم نمبر 6 کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور میں تعلیم حاصل کرنے والا لڑکا جس کا تعلق حیدرآباد سے ہے ، نے شہر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی منانے مقامی تین کم عمر دوستوں سے رابطہ کیا اور بعد ازاں اپنے انسٹگرام پیج پر “Euphoria coming soon” کے عنوان سے میسج اپ لوڈ کیا اور عثمان علی خان اور کنال سے رابطہ کرکے پارٹی کیلئے پب بک کرانے کہا۔ انسٹاگرام پر میسج کا زبردست ردعمل ہونے کے نتیجہ میں عثمان علی خان نے روڈ نمبر 36 جوبلی ہلز پر واقع ایمنیشیا اور انسومیا پب میں 28 مئی کو نان الکحل پارٹی کیلئے فی کس 1200 روپئے حاصل کئے جبکہ اس پارٹی میں شرکت کیلئے متاثرہ لڑکی نے بھی رقم ادا کی تھی۔ انہوں نے یہ کہا کہ لڑکی سے پب میں ہی بدسلوکی شروع ہوگئی تھی اور نوجوانوں نے اجتماعی عصمت ریزی کا وہیں منصوبہ تیار کیا ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ پولیس نے منٹ تا منٹ سی سی ٹی وی ریکارڈ حاصل کئے جس میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اختتام کے بعد شام 5.45 بجے متاثرہ لڑکی اور دیگر نوجوان پب سے باہر آئے اور دو گاڑیوں بشمول انووا اور مرسڈیز بینز میں روڈ نمبر 37 پر واقع کونسیو بیکری پہنچے اور وہاں پر جوس پینے کے بعد سعدالدین ملک اور چار کم عمر ملزمین نے لڑکی کو لے کر روڈ نمبر 44 کے سنسان علاقہ انووا کار میں پہنچ کر باری باری سے عصمت ریزی کی جبکہ ملزم نمبر 6 انووا کار میں جانے کی بجائے کسی دوست سے ملاقات کیلئے بیکری سے دوسرے مقام کیلئے روانہ ہوگیا۔ سی وی آنند نے کہا کہ جرم کو انجام دینے کے بعد پانچوں نوجوان لڑ کی کو دوبارہ پب کے پاس چھوڑ کر اپنے اپنے مقامات چلے گئے ۔ ملزم نمبر 6 کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نوجوان نے مرسڈیز بینز میں لڑ کی سے بدسلوکی کی تھی اور یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر عام ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے آپس میں ایک دوسرے کے موبائیل فونس سے جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی اور آپس میں اسے شئیر کیا تھا ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ کیس میں ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 376(D) (اجتماعی عصمت ریزی) ، 323 (زد وکوب کرنا)، 366 اور 366 (A) (کم عمر لڑکی کا اغواء) کرنے کے علاوہ پوکسو ایکٹ کے دفعہ 5(G)r/w 6 اور آئی ٹی ایکٹ کے دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ سزا کی مدت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قصوروار پائے جانے پر سزائے موت ، قید بامشقت تا حیات اور 14 سال کی بامشقت سزا بھی ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے ملزم نمبر 6 کے بارے میں بتایا کہ چونکہ یہ ملزم انووا کار میں سوار نہیں ہوا اور نہ عصمت ریزی نہیں کی، جس کے نتیجہ میں اس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 354 (D) (دست درازی) ، 323 (زد و کوب) اور پوکسو ایکٹ کے دفعہ 9 ، 10 (G) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور قصوروار پائے جانے پر 5 تا 7 سال کی سزا ہوسکتی ہے ۔ ملزم نمبر 6 نے مرسڈیز بینز میں ہی لڑکی سے دست درازی کی تھی۔ سی وی آنند نے یہ اعلان کیا کہ جوبلی ہلز گینگ ریپ مقدمہ کو پوکسو خصوصی عدالت میں چلایا جائیگا ۔ جرم میں استعمال گاڑیوں سے فارنسک ماہرین نے اہم شواہد اکھٹا کئے ہیں اور متاثرہ لڑکی کا مجسٹریٹ کے اجلاس پر بیان قلمبند کیا گیا ۔ انہوں نے کسی سیاستداں یا مشہور شخصیت کا نام لینے سے گریز کیا۔ کمشنر نے واضح کہا کہ ریاستی وزیر داخلہ کے پوترے کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اگر کوئی شخص ان کے خلاف شواہد پیش کرتا ہے تو اس پر کارروائی کرنے پولیس تیار ہے۔ب