خوشگوار ماحول میں مذاکرات ۔ سی بی آئی جانچ پر اتفاق نہ ہوسکا ‘ احتجاج جاری
رانچی، 8 اگست (یو این آئی) جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی سمیت دیگر بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے اور سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر تقریباً دو ہفتے سے جاری طلبہ تحریک کے درمیان کل دیر رات حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان پہلی باضابطہ میٹنگ ہوئی ۔ رانچی واقع سرکاری گیسٹ ہاؤس میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں طلبہ کے مختلف مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کا ماحول مثبت رہا، لیکن تحریک کے سب سے اہم مطالبے سی بی آئی جانچ کے سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ایسے میں طلبہ نے فی الحال اپنی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میٹنگ میں شامل طلبہ رہنما رویندر پاسوان نے آج کہا کہ حکومت کے ساتھ یہ پہلی باضابطہ بات چیت تھی اور ماحول کافی دوستانہ رہا۔ طلبہ کے نمائندہ وفد نے حکومت کے سامنے اپنے تمام اہم مطالبات رکھے اور امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر ہیمنت سورین اور حکومت کے وزرا ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں گے ۔مسٹر پاسوان نے بتایا کہ یہ بات چیت کا پہلا دور تھا۔ آئندہ دنوں میں حکومت اور طلبہ کے درمیان دوبارہ ملاقات ہوگی، جس میں مطالبات پر تفصیل سے بات چیت کرکے حل کی سمت آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی۔حکومت کی جانب سے میٹنگ میں شامل وزیر سدیویہ کمار سونو نے کہا کہ طلبہ کی تمام باتیں سنجیدگی سے سنی گئی ہیں۔ حکومت ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے گی۔طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئی مطالبات پر مثبت اشارے ملے ہیں، لیکن سی بی آئی جانچ کے معاملے میں صورت حال ابھی واضح نہیں ہے ۔ جب تک اس مطالبے پر ٹھوس فیصلہ نہیں ہوتا، اس وقت تک دھرنا اور ستیہ گرہ جاری رہے گا۔ طلبہ کو امید ہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے ساتھ ہونے والی اگلی میٹنگ میں سی بی آئی جانچ سمیت دیگر اہم مطالبات پر حتمی فیصلہ ہو سکتا ہے ۔