چیف منسٹر سورین کے بڑے اعلانات کے باوجود احتجاج ختم کرنے سے انکار
رانچی، 17 اگست۔(ایجنسیز) جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کو آج بڑی کامیابی ملی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین حکومت نے JSSC-CGL امتحان منسوخ کرنے کے ساتھ TDPL کے ذریعے کرائے گئے امتحانات، جاری نتائج اور انتخابی عمل کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے باوجود اسٹوڈنٹس نے سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات پر اصرار کرتے ہوئے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ قبل ازیں حکومت کے فیصلے کے بعد احتجاج کے اہم چہرے اور گزشتہ 16 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو نے بھی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے تحریک میں تعاون کرنے والے طلبہ، والدین، میڈیا، پولیس انتظامیہ اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ طلبہ نے حکومت کے فیصلے کے بعد احتجاجی مقام پر جشن بھی منایا۔ طویل عرصے سے جاری اس تحریک میں JSSC-CGL امتحان کی منسوخی اور بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اہم مطالبات تھے۔ چیف منسٹر ہیمنت سورین نے اعلان کیا کہ 2014 ء سے اب تک بھرتی امتحانات میں سامنے آنے والی چھوٹی بڑی بے ضابطگیوں کی جامع جانچ کرائی جائیگی۔ اس کے لیے تحقیقاتی عمل میں سی آئی ڈی سمیت دیگر اداروں کا کردار ہوگا، جبکہ ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بھی جانچ کا انتظام کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کی طویل تحریک کے اختتام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔