جی ایچ ایم سی حدود اور اطراف کے اسمبلی حلقوں میں بی جے پی سکہ جمانے کوشاں

   

فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے منصوبہ پر عمل آوری ، مضافات میں بی جے پی کی سرگرمیوں میں اضافہ
حیدرآباد۔4۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اسمبلی میں اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے اطراف و اکناف کے حلقہ جات اسمبلی پر اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور اس کے لئے بی جے پی نے شہر کے نواحی علاقو ںمیں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس پر عمل آوری شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے شہر حیدرآباد میں گوشہ محل‘ مشیر آباد‘ سکندرآباد‘ عنبر پیٹ‘ خیریت آباد ‘ صنعت نگر اور جوبلی ہلز کے علاقوں میں اپنے قائدین اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے نواحی علاقوں کے حلقہ جات اسمبلی مہیشورم‘ راجندرنگر‘شیرلنگم پلی‘ چیوڑلہ ‘ پرگی ‘ تانڈور اور ابراہیم پٹنم کے علاوہ اپل کے قائدین کو متحرک کرتے ہوئے ان حلقہ جات اسمبلی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی قائدین نے شہری علاقوں کے علاوہ اضلاع میں بھی جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرتے ہوئے عوام کے درمیان منافرت پیدا کی جاسکتی ہے ان حلقہ جات اسمبلی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر کے نواحی علاقو ںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کے لئے کوئی موقع دستیاب نہیں ہورہا تھا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے شہر حیدرآباد سے متصل علاقہ شمس آباد میں ایک سے زائد مرتبہ قومی قائدین کے ساتھ جلسہ عام منعقد کئے گئے لیکن اب تک بھی اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوپایا تھا اور اب بی جے پی قائدین ماحول کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شمس آباد کے علاقہ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا ایک سے زائد مرتبہ دورہ ہونے کے باوجود جو صورتحال پیدا نہیں ہوپائی تھی اب وہ حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے تیار کئے جانے والے منصوبوں میں عوامی رابطہ‘ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی بی جے پی میں شمولیت ‘ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نشانہ بنانے کے علاوہ شہریوں میں منافرت پھیلاتے ہوئے انہیں مذہبی بنیادوں پر منقسم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شہر حیدرآباد کے حلقہ جات اسمبلی کے علاوہ نواحی علاقوں میں بی جے پی کی توجہ کے متعلق سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ نواحی علاقوں میں جہاں مسلم آبادی کم ہے ان حلقہ جات اسمبلی میں پارٹی کو مستحکم بنانے کے لئے حلقہ اسمبلی کے اساس پر مسائل سے آگہی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔م