جی ایچ ایم سی میں کنٹراکٹرس کو 1300 کروڑ کے بقایہ جات

   

بلز کی عدم اجرائی پر احتجاج، عہدیداروں کو حکومت سے مدد کی اُمید
حیدرآباد 20 مئی (سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات کی رائے دہی کی تکمیل کے ساتھ ہی گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں تکمیل شدہ ترقیاتی کاموں کے بلز کی ادائیگی کے لئے کنٹراکٹرس نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پہلے ہی مالی بحران سے گزر رہا ہے، ایسے میں کنٹراکٹرس اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے سلسلہ میں انجام دیئے گئے کاموں کے بلز کی ادائیگی کا مطالبہ کررہے ہیں جو تقریباً 1300 کروڑ بتائے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالیاتی سال سے جاریہ مالیاتی سال کے آغاز تک جی ایچ ایم سی کے ذریعہ 1300 کروڑ کے کام انجام دیئے گئے تھے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 4000 سے زائد کنٹراکٹرس ہیں جو مختلف نوعیت کے کام انجام دیتے ہیں۔ سابق حکومت کے دور میں بھی کنٹراکٹرس نے بلز کی ادائیگی کے لئے احتجاج منظم کیا تھا اور اسمبلی انتخابات سے قبل سابق حکومت نے بلز کے کلیئرنس کا انتظام کیا تھا۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت ٹیکس کلکشن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمشنر جی ایچ ایم سی رونالڈ راس کی جانب سے بلز کی ادائیگی کے سلسلہ میں کوئی واضح تیقن نہیں دیا گیا۔ کنٹراکٹرس سے ملاقات سے گریز پر جی ایچ ایم سی ہیڈ کوارٹرس میں کنٹراکٹرس نے احتجاج منظم کیا۔ کنٹراکٹرس کا مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت جی ایچ ایم سی کے مالی بحران کو ختم کرنے کے لئے خصوصی فنڈس جاری کرے۔ جی ایچ ایم سی کے تحت مختلف طرح کے ٹیکس کلکشن پر خصوصی مہم کے ذریعہ توجہ دی گئی ہے لیکن اُس کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیدار موجودہ صورتحال میں حکومت سے تعاون کے منتظر ہیں۔ مزید ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے لئے حکومت کو جی ایچ ایم سی کی مالی مدد کرنی ہوگی۔ 1