حیدرآباد ۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے بھاری قرض کی وجہ شہر میں انفراسٹرکچر پراجکٹس رک گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابنق فٹ اوور بریجس، فلائی اوورس، سڑک کشادگی اور اسٹریٹ لائیٹس کی تنصیب کے کام میں کارپوریشن کے خالی خزانہ کے باعث رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ یکم ؍ ڈسمبر کو جی ایچ ایم سی کا واجب الادا قرض 5,800 کرو روپئے تھا، جو اس کے منظورہ سالانہ بجٹ8,400 کروڑ روپئے کے 75 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس میں کارپوریشن کی جانب سے اب تک صرف 1,139 کروڑ روپئے ہی کی ادائیگی کی گئی۔ یہی نہیں اس میں 800 کروڑ روپئے مالیت کے اضافی زیرالتوا بلز بھی ہیں، جس میں اصل رقم اور سود مرکب کیلئے مالیاتی اداروں کو ماہانہ 180 کروڑ روپئے ادا کرنا ہوتاہے۔