جے این یو حملے کیخلاف گیٹ وے آف انڈیا پرمظاہرے

   

احتجاجیوں کو پولیس نے آزاد میدان منتقل کردیا،طلبہ میں سخت ناراضگی

ممبئی،7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)عروس البلاد کے جنوبی علاقہ میں واقع تاریخی گیٹ وے آف انڈیا پرمظاہرہ کررہے طلباء کو آج ممبئی پولیس نے ایک کلومیٹر کی دوری پر آزاد میدان منتقل کردیا ہے ۔ آزاد میدان پولیس کے مطابق مظاہرین کے سبب ٹریفک کی آمدروفت پراثر پڑرہاتھا۔ پولیس نے واضح کیا کہ گیٹ وے آف انڈیا پر کو پانی اور واش روم سمیت دیگر سہولتیں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے مظاہرین کو آزاد میدان منتقل کیا گیا ہے ۔پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی کو حراست یا گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔دراصل چند سال قبل بمبئی ہائی کورٹ نے جنوبی ممبئی میں منترالیہ اور کالاگھوڑا علاقے میں احتجاج اور دونوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے آزاد میدان کو اس کے لیے مخصوص کردیا تھا،لیکن اتوار کی شب جے یواین میں طلباء پر حملوں کے بعد مظاہرین نے گیٹ آف انڈیا پر دھرنا شروع کردیا۔ تاہم آج صبح ممبئی پولیس نے مظاہرین کو یہاں سے ہٹا دیا۔ پولیس، احتجاج کرنے والے تمام طلبہ کو وین میں سوار کراکے آزاد میدان لے گئی۔ اس دوران مظاہرین پولیس کی مخالفت کرتے رہے اور انہوں نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔پو لیس نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملہ میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ،جبکہ پولیس ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ بھی دیا ہے اور اپیل کی ہے کہ عوام بلااجازت مظاہرے اور دھرنے سے بچیں اور عام شہری اور ٹریفک کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔

نازی حکمرانی جیسے آثار ، ابھجیت بنرجی کا ریمارک
نئی دہلی ۔ 7جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور جے این یو کے فارغ التحصیل ابھجیت بنرجی نے جے این یو تشدد کے بارے میں تبصرہ میں کہا کہ یہ حالات کچھ اُسی طرح معلوم ہورہے ہیں جب جرمنی نازی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سچائی سے کام لیں اور جھوٹی باتوں اور غلط الزام آرائی سے متاثر ہوکر کام نہ کریں۔