ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ کے طور پر 7.35 کروڑ کی اجرائی، محمد علی شبیر نے حج کیمپ انتظامات کا جائزہ لیا
حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے حج ہاوز نامپلی سے متصل زیر تعمیر 7 منزلہ کامپلکس گارڈن ویو کی تکمیل کیلئے نئے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ائمہ اور موذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے بقایا جات کے طور پر7.35 کروڑ روپئے جاری کئے اور اعزازیہ کی رقم ائمہ اور موذنین کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوچکی ہے۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے آج حج ہاوز کا دورہ کیا اور زیر تکمیل کامپلکس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے حج 2024 کے انتظامات پر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا اور حج کیمپ میں بہتر خدمات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، ایگزیکیٹو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی لیاقت حسین، چیف ایگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ خواجہ معین الدین اور کانگریس کے اقلیتی قائدین اس موقع پر موجود تھے۔ محمد علی شبیر نے زیر تکمیل کامپلکس کی عاجلانہ تعمیر کے سلسلہ میں دو تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 17 سال سے زیر تکمیل اس کامپلکس کو وقف اداروں کے فنڈز سے مکمل کرتے ہوئے آمدنی میں وقف بورڈ کو شرکت دار بنایا جائے یا پھر حکومت کی گرانٹ اِن ایڈ سے عمارت کی تکمیل ہو۔ انہوں نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو اس سلسلہ میں جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ ٹنڈرس طلب کئے جاسکیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے دس برسوں میں زیر تکمیل کامپلکس پر توجہ نہیں دی۔ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے محمد علی شبیر نے حج ہاوز کی دونوں جانب اراضی 22 کروڑ میں حاصل کی تھی اور آج اس کی مالیت تقریباً 1000 کروڑ ہوچکی ہے۔22فروری 2009 کو کامپلکس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے کامپلکس کی تکمیل کا بارہا اعلان کیا لیکن بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ 13735 ائمہ اور موذنین کو اعزازیہ کے طور پر 7.35 کروڑ جاری کردیئے گئے اور ایک ماہ کا اعزازیہ جلد ہی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو حج کیمپ میں موثر انتظامات کی ہدایت دی اور کہا کہ حیدرآباد سے تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں کے 10 ہزار سے زیادہ عازمین روانہ ہوتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وقف بورڈ اور اوقافی جائیدادوں کے مسئلہ پر عنقریب جائزہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ سابق حکومت نے وقف ریکارڈ روم کو مہربند کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک تحقیقات کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں اسٹاف کی کمی دور کرنے مرحلہ وار تقررات کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اقلیتی بہبود کے بارے میں سنجیدہ ہیں لہذا انہوں نے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے۔1