حصول قرض پر پابندیوں سے چیف منسٹر کے سی آر ناراض

   

اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے ، عدلیہ سے رجوع ہونے ، ہم خیال جماعتوں سے ملاقات کا منصوبہ
حیدرآباد /19 مئی ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر ریاستوں پر مرکزی حکومت کی جابن سے حصول قرض کیلئے عائد کی گئی تحدیدات اور پابندیوں سے ناراض اور برہم ہیں اور اس کے خلاف ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مرکز کے خلاف آواز اٹھانے پر غور کر رہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکز اور آر بی آئی کے تازہ فیصلے کے خلاف ایک طرف اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے دوسری طرف عدلیہ سے رجوع ہونے کامنصوبہ تیار کر رہے ہیں ۔امکان ہے کہ چیف منسٹر جلد دہلی کا دورہ کریں گے اور ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس سے تبادلہ خیال کرکے قومی سطح پر مرکز کے فیصلے کے خلاف مہم چھیڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے چہارشنبہ کو وزراء اور عہدیداروں کا اجلاس طلب کرکے پلے ، پٹنا پرگتی پروگرامس کی پیشرفت کا جائزہ لیا ہے ۔ چیف منسٹر نے وزراء اور عہدیداروں کو بتایا کہ وہ دہلی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حصول قرض پر پابندیوں کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر نے آج پرنسپل سکریٹری فینانس راما کرشنا راؤ کو دہلی روانہ ۔ مرکزی فینانس سکریٹری کے علاوہ دیگر عہدیداروں سے ملاقات کرکے حصول قرض کیلئے جو پابندیاں ہیں ان سے دستبرداری اختیار کرنے نمائندگی پر زور دیا گیا ہے ۔ اس معاملے میں محکمہ فینانس تلنگانہ کی جانب سے مرکز کو مکتوب روانہ کرکے حصول قرض کیلئے جو تحدیدات ہیں ان سے دستبرداری اختیار کرنے بانڈس کی فروختگی سے قرض حاصل کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مرکز کے اس فیصلے سے ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر اثرات پڑھنے کے خدشات ظاہر کئے گئے ہیں ۔ ن