Wednesday , July 1 2020

حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پڑ پوترے کے سیریا میں مقبرہ پر حملہ

فبروری کے مہینے میں سیریائی افواج کی قبروں میں نکالی گئی نعشوں کے ڈھانچوں کے ساتھ بربریت کا ویڈیو منظرعام پر آیاتھا
دمشق۔ شام کے صدربشر الاسد ساتھ ملکر لڑرہی اتحادی افواج نے نارتھ ویسٹ صوبہ کے ادلیب اس ہفتہ اٹھویں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی قبر کو مسمار کیا ’کھولا اور نذر آتش کرنے کیاہے۔ ان کی جسد خاکی کو کسی نامعلوم مقام پر لے جایاگیاہے۔

قبور کی مسماری کا ویڈیو فوٹیج سوشیل میڈیا پر منظرعام پر آیا جس میں خلیفہ اور ان کی زوجہ اور خادم کی قبور مسمار ہیں اور جسد خاکی غائب ہے۔

مرات النومان کے علاقے دائرہ الشرق کے مذکورہ گاؤ میں مقبرہ قائم ہے جس کو اتحادی افواج کی جانب سے اسی سال فبروری کے مہینے میں قبضہ میں لئے جانے کے بعد نذر آتش کرنے کیاگیا ہے۔

ترکی نیوز ایجنسی روزنامہ صباح ے مطابق خلیفہ کے بقایہ جات کہاں پر ہیں اس بات کا اب تک کوئی انکشاف نہیں ہوا ہے

۔پیغمبر اسلام ﷺ کے صحابی اور خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطاب کے پڑ پوترے ہیں عمر ابن عبدالعزیزجو اپنے مختصر دو رخلافت کے دوران انصاف قائم کرنے کی وجہہ سے دنیائے اسلام میں کافی مقبول ہیں۔ اٹھویں صدی میں دوسال پانچ ماہ تک آپ کی خلافت رہی تھی۔

دمشق میں 661میں قائم ہونے والی پہلی مسلم سلطنت اموی تھی۔ خطہ پر قبضہ جمانے کے بعد اسدحکومت کے وفادروں نے قبور کی بہ حرمتی کی ہے۔

فبروری کے مہینے میں ایسے ویڈیوز منظرعام پر ائے تھے جس میں اتحادی افواج نے سنی علاقو ں میں اپوزیشن کے جنگجوؤں اور کمانڈرس کی قبروں کے ساتھ بے حرمتی کی ہے‘

ساتھ میں دیگر ویڈیوز کے اندر دیکھا یاگیا کہ سیریائی افواج قبروں سے نکالی گئی نعشوں کی کھونپڑیوں اور ڈھانچوں سے کھیل رہے ہیں۔ سال2015میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھے گئے تھے جب اتحادی افواج نے ہومس میں درجنوں قبروں کو مسمار کیاتھا

مسماری سے قبل قبور کی تصویر

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT