بی آر ایس حکومت کی قلعی کھل گئی ، ضلع نلگنڈہ کے تمام مدارس اور طلبہ کی تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔9۔نومبر۔ملک کی بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار والی ریاستوں میں دینی مدارس کو ہراسانی اور انہیں نوٹسیں روانہ کرتے ہوئے نشانہ بنائے جانے کی شکایات اب تک اترپردیش یا آسام سے موصول ہوا کرتی تھیں لیکن اب تلنگانہ میں دینی مدارس کو نوٹس جاری کی جانے لگی ہیں۔ریاست میں بھارت راشٹرسمیتی کی حکومت ہے یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے! حکومت تلنگانہ بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہی ہے ! حکومت تلنگانہ کو دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اب کھٹکنے لگے ہیں۔تلنگانہ میں موجود دینی مدارس کے ذمہ داروں کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے نوٹس روانہ کرتے ہوئے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کی تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہے ۔ ریاست میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کی برقراری اور خوشحالی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن ضلع نلگنڈہ کے تمام دینی مدارس کو روانہ کی گئی نوٹس سے حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ خواتین ‘ اطفال‘ اور ضعیف العمر شہری ( ڈپارٹمنٹ آف ویمن ، چلڈرن ، ڈسیبلڈ اینڈ سینئیر سٹیزن ) کی جانب سے دینی مدارس کو ضلع ویلفیر آفیسر نے 2 نومبر کو نوٹس نمبر 3029/MV/DCPU/2023 جاری کرتے ہوئے ایک پرفارما بھی ساتھ روانہ کیا ہے جس میں دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی تمام تر تفصیلات درج کرتے ہوئے جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دینی مدارس کو جاری کی گئی نوٹس میں جوائنٹ ڈائریکٹر محکمہ کی جانب سے یکم نومبر کو جاری کئے گئے میمو نمبر3029/ICPS/2023 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہاگیا ہے کہ محکمہ کی جانب سے جاری کی گئی ان ہدایات کے مطابق یہ نوٹس جاری کی جار ہی ہے جس کے ذریعہ یہ تفصیلات حاصل کی جار ہی ہیں کہ ان دینی مدارس کے قیام کے لئے اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہے یا نہیں اگر کیا گیا ہے تو ان مدارس کا الحاق کس ادارہ سے ہے!اس کے علاوہ سرکاری امداد حاصل کرنے والے اور خانگی دینی مدارس کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اس بات کی تفصیلات حاصل کی جار ہی ہیں کہ ان دینی مدارس میں آیا غیر مسلم طلبہ و طالبات کو داخلہ دیا جا رہاہے!حکومت تلنگانہ کی جانب سے دینی مدارس کو جاری کی گئی اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تمام تر تفصیلات کے ساتھ دینی مدارس کی تمام تفصیلات محکمہ کو فراہم کی جائیں تاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے یہ تفصیلات مرکزی حکومت کے ادارہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کو روانہ کی جاسکیں۔ ضلع نلگنڈہ کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی دینی مدارس کو اس طرح کی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے یہ تمام تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔ ضلع نلگنڈہ کے دینی مدارس کو شریمتی کے وی کرشناوینی ڈسٹرکٹ ویلفیر آفیسر کی جانب سے روانہ کی گئی اس نوٹس میں محکمہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر جو کہ ریاستی حکومت کے عہدیدار ہیں ان کی جانب سے روانہ کئے گئے میمو کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کی دہائی دینے والی حکومت کے محکمہ کی جانب سے مرکزی حکومت کے ادارہ کو روانہ کرنے کے لئے دینی مدارس سے حاصل کی جانے والی یہ تفصیلات دینی مدارس کے ذمہ داروں کے لئے نوشتۂ دیوار ہے ۔حکومت کی جانب سے تحفظ حقوق اطفال کے نام پر دینی مدارس کے طلبہ کی تفصیلات حاصل کرنا ہی مشتبہ عمل ہے جبکہ اس نوٹس میں بالواسطہ طور پر یہ دریافت کیا جا رہاہے کہ آیا دینی مدارس میں غیر مسلم طلبہ کو داخلہ فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں ! سابق میں حکومت اترپردیش اور حکومت آسام کی جانب سے اس طرح کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد دینی مدارس کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔