مساجد کا انہدام و نقصان ، محبوب نگر میں بلدیہ کی کارروائی پر صدر نشین وقف بورڈ کا سخت ردعمل
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔10۔اگسٹ۔ ریاست تلنگانہ میں عہدیدار حکومت کو بدنام کرنے کی سازش میں ملوث ہورہے ہیں ! ریاستی حکومت کے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار تلنگانہ راشٹر سمیتی سے مسلمانوںکوبدظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں!سڑک کی توسیع ‘ غیر منظورہ عمارت ‘ شاہراہ میں رکاوٹ کے علاوہ غیر مجاز تعمیر کے نام پر مساجد اور مساجد سے متصل جائیدادو ں کو منہدم کرنے کے واقعات میں ہورہے اضافہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار حکومت کے احکام کے بجائے کسی اور کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں اور حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ شمس آباد میں گرین اوینیو کالونی کی مسجد خواجہ محمود کی شہادت سے قبل مسجد نوری شمس آباد سے متصل ملگیات کے انہدام کے واقعہ اور قبرستان کی دیوار کو منہدم کرنے کے علاوہ یوم عاشورہ کے دن ضلع محبوب نگر میں موجود مسجد ‘ مسجدعمرو آمینہ (ریلوے اسٹیشن کی مسجد) سے متصل ملگیات کو محبوب نگر بلدیہ کی جانب سے منہدم کردیا گیا۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے مسجد سے متصل ملگیات کے انہدام کا سخت نوٹ لیتے ہوئے بلدی عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے ان کی کاروائی پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اگر بلدی عہدیداروں کی جانب سے منہدم کردہ ملگیات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی بنیاد پر فوجداری مقدمات درج کروانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ حالیہ عرصہ میں ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی جانب سے مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے اور خاطیوں کے خلاف مؤثر کاروائی نہ کئے جانے کے متعلق واقعات میں ہونے والے اضافہ کے متعلق اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنے اور مسلمانو ںکو تلنگانہ راشٹر سمیتی سے بدظن کرنے کے لئے بعض عہدیداروں کی جانب سے اس طرح کی کاروائیوں کو انجام دیا جا رہاہے ۔ مسجد خواجہ محمود کی رات دیر گئے مقامی مسلمانو ںکے مکانات کو مقفل کرتے ہوئے کی جانے والی شہادت کے علاوہ مسجد نوری سے متصل ملگیات کو نیشنل ہائی اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے منہدم کئے جانے کے بعد اب محبوب نگر میں کی گئی اس کاروائی میں ملوث عہدیداروں کے سابقہ ریکارڈ کے متعلق معلومات اور ان کی کارکردگی کی تفصیلات حاصل کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ سرکاری محکمہ جات میں موجود متعصب عہدیدار اپنے ماتحت عہدیداروں پر دباؤ بناتے ہوئے انہیں اس طرح کی حرکات کے مرتکب ہونے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ مذہبی مقامات بالخصوص مساجد‘ درگاہوں اور قبرستانوں کو نقصان پہنچائے جانے کے سبب مسلمانوں کی دلآزاری ہونے لگی ہے اور اس کے نتیجہ میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کے خلاف مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں ۔ سیاسی ماہرین و مبصرین کا کہناہے کہ اس طرح کے واقعات سے سیکولر مسلم ووٹ کے منقسم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ریاست میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کے سیکولر متبادل کے طور پر کانگریس کو دیکھا جاتا ہے اور اگر کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان مسلم ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو اس کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے نظریات کے حامل عہدیداروں سے ایسی کاروائیاں کرواتے ہوئے مسلم ووٹ کو غیر اہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے موجودہ ماحول میں کھل کراس طرح کی کاروائیوں کے خلاف اظہار خیال سے گریز کیا جا رہاہے تاکہ اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں پر اس کا کوئی منفی اثر مرتب نہ ہو۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مسلم مسائل اور مسلمانوں کے خلاف جاری کاروائیوں پر اختیار کردہ خاموشی کی حکمت عملی سے بی جے پی فائدہ اٹھانے کی کوشش کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ اب تک کی گئی کاروائیوں میں اعلیٰ عہدیداروں کے ملوث ہونے اور ان کے دہلی سے راست تعلق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اسی لئے یہ کہا جا رہاہے کہ عہدیدار حکومت تلنگانہ کو بدنام کرنے میں مدد گار ثابت ہونے لگے ہیں اور ان کی یہ کوششیں ریاست میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔