حکومت کو 15 سرپنچوں کا الٹی میٹم 20 مئی تک زیر التواء بلز کی عدم اجرائی پر مستعفی ہو جائیں گے

   

حیدرآباد۔18 مئی ( سیاست نیوز) دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے بعد حکومت سے فنڈز کی عدم اجرائی پر سرپنچ ناراض ہیں۔ 20 مئی تک فنڈز کی عدم اجرائی پر عہدوں سے مستعفی ہو جانے کا انتباہ دیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اور وزرا کی جانب سے دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے اور بروقت فنڈز کی اجرائی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ایلاکنٹہ منڈل کے 15 سرپنچوں نے منڈل ڈیولپمنٹ آفس میں ایک اجلاس طلب کیا جس میں اپنے اپنے گرام پنچایتوں میں ترقیاتی کام انفرااسٹرکچر کی فراہمی اور حکومت کی جانب سے بلز کی عدم اجرائی کا جائزہ لیا اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا۔ منڈل سرپنچس فورم کے صدر سی نارائنا نے بتایا کہ ہم ہماری جانب سے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہے ہیں۔ حکومت سے بار بار نمائندگی کرنے کے باوجود زیر التواء بلز کی اجرائی کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے استعفے دینا اس کے علاوہ دوسرا کوئی چاہ نہیں ہے۔ ہماری اس مہم میں مزید 18 سرپنچس نے بھی شامل ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ نارائنا نے کہا کہ حکومت سے فنڈز کی اجرائی کی امید کرتے ہوئے ہم نے اپنے ذاتی پیسوں کے علاوہ قرض پر رقم حاصل کرتے ہوئے ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم اجرائی پر قرض ادا کرنے کے لئے گزشتہ چار ماہ سے ہم پر دباؤ ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کررہے ہیں کہ فوری زیر التواء بلز کے فنڈز جاری کریں بصورت دیگر ان کے پاس سوائے مستعفی ہونے کے دوسرا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ ن