خارجی اور داخلی دہشت گردوں کے بارے میں دھرووراٹھی کیا کہتے ہیں

   

ہمارے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جو ہندوستانی سپاہی شہید ہوئے انہیں ہم سلام کرنا چاہیں گے ۔ صوبیدار میجر پون کمار ، رائفل میان سنیل کمار ، آئی ایف سرجنٹ سریندر موگا ، بی ایس ایف سب انسپکٹر محمد امتیاز ، بی ایس ایف کانسٹبل دیپک چنگھں ، اگنی ویر جوان مرلی نائک ، حوالدار سورج سنگھ یادو ، ایئر میان کمل کلبوج ، لانس نائک دنیش کمار شرما ، جوان سچن یادو راج ونجانے اور جوان امیت سانگوان ، ہندوستان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں کئی دہشت گرد مارے گئے ۔ ہندوستانی دفاعی فورس کے مطابق 5 اہم نام یہاں آتے ہیں ۔ یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہیکہ دہشت گردوں کے نماز جنازہ میں کون لوگ شریک تھے ۔ پاکستان کے لیفٹننٹ جنرل فیضیا حسین شاہ ، میجر جنرل راو عمران سرتاج ، بریگیڈ سر محمد فرقان شبیر، ڈاکٹر عثمان انور جو 2023 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس رہ چکے اور ملک حبیب احمد بھپرت جو پاکستانی صوبہ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں ۔ ان کے کمیونکیشن اینڈ ورکس میںاس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ وزیرقانون اور پولیس کے آئی پی خود دہشت گردوں کے نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔ ان کی نماز جنازہ حافظ عبدالرؤف نے پڑھائی ۔ کئی پورٹلس میں ان کا نام عبدالرؤف لکھا گیا تھا ، اس کی وجہ سے گزشتہ ویڈیو میں ایک الجھن پیدا ہوئی اور ایک غلطی ہوئی ۔ یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہوں گا کہ عبدالرؤف اظہر دہشت گردانہ تنظیم جے ایم کا کمانڈر ہے اور ساتھ میں مولانا مسعود اظہر کا بھائی ہے لیکن یہ حافظ عبدالرؤف لشکر طیبہ کا دہشت گرد ہے ، دونوں ہی یہاں دہشت گرد ہیں جب ہندوستان کی طرف سے یہ فوٹو دکھائی گئی تو پاکستان نے بے شرمی کے ساتھ کہا کہ یہ تو ایک مذہبی شخصیت ہے ، ایک عام خاندانی شخص ہے ۔ اپنے دعوے کی تائید و حمایت میں اس کا قومی شناختی کارڈ بھی دکھایا لیکن اس آئی ڈی کارڈ میںجو تفصیلات بشمول اس کے CNIC نمبر اور تاریخ پیدائش ہے وہ امریکہ کے ٹریژری ڈپارٹمنٹ کی پابندیوں سے متعلق ریکارڈ سے ملتی ہے ۔ امریکی ٹریژری ڈپارٹمنٹ کی 24 نومبر 2010 کی یہ پریس ریلیز دیکھئے جس میں ٹریژری نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے مالیاتی نٹ ورک کو نشانہ بنایا ، اس میں بتایا ہیکہ حافظ عبدالرؤف ایف آئی ایف یعنی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا سربراہ ہے جو کہ 2009 کے وسط سے لشکر طیبہ کا ہی نام ہے ۔ فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے اس کا نام بدلا گیا اور عالمی دباؤ سے بچنے کیلئے بدلا گیا ۔ لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن دونوں ہی کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیمیں نامزد کیا گیا ہے ۔ درحقیقت فبروری 2019ء میں خود پاکستان نے جماعت الدعو کیساتھ فلاح انسانیت فاونڈیشن پر بھی پابندی عائد کی تھی تو پاکستانی سیاست اور کتنا جھوٹ بولے گی ۔ یہ تو رہی بات ملک کے باہر کے دہشت گردوں کی لیکن ملک کے اندر موجود بھی ایسے لوگ ہیں جو ان ہی دہشت گردوں کا ایجنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ سناتن ایکتا منچ کے دو ارکان کو بان گاؤں پولیس نے گرفتار کیا ، ان کے نام ہیں چندن مالاکر اور پرگیا جیت منڈل یہ لوگ اکائی پور ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر پاکستان کا جھنڈہ چسپاں کررہے تھے ۔ ایس بی بانگاوں کے ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ یہ ایک سیاسی جماعت کے سرگرم ارکان بھی ہیں ، کونسی سیاسی جماعت ؟ یہ تو نہیں بتایا گیا لیکن اندازہ لگانا اتنا مشکل نہیں ہے ، انہیں جب پولیس نے پکڑا ان لوگوں نے اس بات کا اعتراف کیا اور یہ انکشاف کیا کہ اس دیوار پر پاکستان زندہ باد اور ہندوستان مردہ باد لکھ رہے تھے تاکہ اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل پیدا کیا جاسکے ۔ کسی اور پر الزام عائد کیا جاسکے ۔ اسی طرح کی فرقہ پرستانہ ذہنیت آگرہ میں بھی دیکھی گئی گلفام علی ایک بریانی کارنر پر ویٹر کام کرتے تھے ، دن میں چار لوگ اسکوٹر پر آئے اور انہیں گولی ماردی ان کے ساتھی ورکر سیف علی زخمی ہوئے ۔ منوج چودھری نے ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے کہا کہ شتریہ گاؤ رکھشا دل اس کی ذمہ داری لیتا ہے ، 26 کی موت کا بدلہ 2600 کو مار کر لیا جائے گا ۔