’خاکی انڈرویر‘ ریمارکس نامناسب تھے مگر اعظم خاں کو ہی ووٹ دیں گے

رامپور (یوپی) 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ترقی کا موضوع اِس لوک سبھا حلقہ میں جنس کی حساسیت کو شائد پیچھے چھوڑ دے کیوں کہ کئی مسلم خواتین کا کہنا ہے کہ ایس پی لیڈر اعظم خاں کا جیہ پردا کے خلاف ’خاکی انڈر ویر‘ والا طنز بلا ضرورت تھا لیکن عین ممکن ہے وہ اُنھیں کو ووٹ دیں گے کیوں کہ اُنھوں نے بہت کام کئے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر مسلم خواتین کا احساس ہے کہ سینئر سماج وادی پارٹی لیڈر کو اداکارہ و سیاستدان اور اِس لوک سبھا حلقہ سے اُن کے خلاف بی جے پی کی امیدوارہ کے تعلق سے اہانت آمیز ریمارک کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا لیکن ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں جو اُن کی پرزور تائید و حمایت کرتی ہیں۔ کئی خواتین نے کہاکہ اعظم خان جو اِس علاقہ سے 9 مرتبہ کے ایم ایل اے ہیں، اُن کا بھی کہنا ہے کہ جیہ پردا غیر ضروری مسئلہ کو اُچھال رہی ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ ووٹ تو وہ اعظم خاں کو ہی دیں گے کیوں کہ اُنھوں نے رامپور میں خواتین کی حفاظت اور سلامتی کو ترجیحی طور پر یقینی بنایا ہے اور اِس لئے بھی اعظم خاں کو ووٹ دینا ہے کیوں کہ بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنا ضروری ہے۔ ایک ہوٹل کی ملازمہ یاسمین صفدر نے کہاکہ اعظم خاں نے رامپور کو ہندوستان کے اہم شہروں کے نقشے میں نمایاں کیا ہے اور اِس کی ترقی کے لئے واقعی محنت کی ہے۔ مشرقی اترپردیش کے اِس ٹاؤن میں 23 اپریل کو 7 مرحلوں کی پولنگ کے تیسرے راؤنڈ میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اُنھوں نے ’خاکی انڈر ویر‘ ریمارک پر تنقید ضرور کی اور کہاکہ اعظم خاں کو اپنے بیانات میں محتاط رہتے ہوئے شخصی ریمارکس سے گریز کرنا چاہئے۔ تاہم اُنھوں نے مزید کہاکہ مَیں اور میری فیملی اعظم خاں کو ووٹ دیں گے۔ اعظم خاں کو الیکشن کمیشن نے ناشائستہ ریمارکس کی پاداش میں انتخابی مہم میں 72 گھنٹے تک حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT