وزارت اقلیتی بہبود ’بے نامی وزیر ‘کے ہاتھوں میں

   

محمد اظہر الدین کی عدم دلچسپی، محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی کارکردگی سے وزیر کا بھی عدم اطمینان
حیدرآباد۔25۔مئی ۔(سیاست نیو) محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے سوالات پر وزیر اقلیتی بہبود کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی محکمہ میں وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کی اہمیت کو عہدیداروں کی جانب سے گھٹائے جانے کے الزامات کی توثیق کر رہا ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے امور سے جناب محمد اظہر الدین کی عدم واقفیت کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار من مانی کررہے ہیں اور محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی من مانی کو دیکھتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارۂ جات میں بھی من مانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جناب محمد اظہر الدین کو وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان حوالہ کئے جانے کے بعد توقع کی جار ہی تھی کہ ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے معاملہ میں توجہ دی جائے گی لیکن ابتدائی 6ماہ کے دوران وہ کسی ایوان کے مستقل رکن نہ ہونے کے سبب محکمہ کے عہدیدارانہیں اہمیت نہیں دے رہے تھے اور اب وہ رکن قانون ساز کونسل بنائے جاچکے ہیں تو اس کے بعد سے محکمہ اقلیتی بہبود میں جناب محمد اظہر الدین کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے ۔ محمد اظہر الدین جو کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر سے باہر ہیں اور ان کے غیاب میں محکمہ اقلیتی بہبود کے امور کی نگرانی غیر مجاز افراد کی جانب سے کی جا رہی ہے بلکہ محکمہ کے تحت موجود اداروں میں راست مداخلت کے ذریعہ یہ تاثر دیا جارہاہے کہ اگر محمد اظہر الدین کے پاس قلمدان ہے بھی توایسی صورت میں وزارت کے امور ’بے نامی وزیر ‘ کے پاس ہیں ۔محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اداروں کے عہدیداراور خود محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار اپنے وزیر سے زیادہ ’بے نامی وزیر‘ کے احکام پر عمل کر رہے ہیں ۔ جناب محمد اظہر الدین جو گذشتہ کئی دن سے ناگپور اور دہلی کے دورہ پر ہیں ان کی عدم موجودگی میں کانگریس کے اقلیتی قائدین بھی ’بے نامی ‘ وزیر سے رابطہ کرتے ہوئے اپنے مسائل پیش کرنے پر مجبور ہونے لگے ہیں اور ’بے نامی ‘ وزیر اپنے رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عہدیداروں پر دباؤ ڈالنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جناب محمد اظہر الدین بھی محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں اور محکمہ کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں کے عہدیداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اس کے علاوہ وہ ان کے محکمہ میں کی جانے والی مداخلت بیجا سے خوش نہیں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اپنے دورۂ دہلی اور قائد اپوزیش مسٹر راہول گاندھی کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے دوران بھی انہوں نے ان کی وزارت میں کی جانے والی مداخلت سے متعلق شکایت کرتے ہوئے تلنگانہ میں اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو پوراکرنے کے معاملہ میں اپنے منصوبہ سے واقف کروایا۔بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت میں اقلیتی بہبود کے تحت چلائی جانے والی اسکیمات میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں سے متعلق بھی پارٹی ہائی کمان کو واقف کروایا گیا ہے اور ’بے نامی‘ وزیرکی محکمہ میں مداخلت کو روکنے کی بھی خواہش کی گئی ہے۔3