جگن کی مودی سے ملاقات فیصلہ کن، بی جے پی کو مضبوط حلیفوں کی تلاش
حیدرآباد۔مرکز میں بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے سے اکالی دل کی علحدگی کے بعد بی جے پی نے نئے حلیفوں کی تلاش شروع کردی ہے تاکہ این ڈی اے کو مستحکم کیا جائے۔ نئے حلیفوں میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر بی جے پی کی نظریں ہیں تاکہ کسی طرح وائی ایس آر کانگریس کو مرکز میں این ڈی اے کی حلیف کے طور پر شامل کیا جاسکے۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے نئی دہلی طلب کیا گیا ہے اور ملاقات کے ایجنڈہ میں بتایا جاتا ہے کہ این ڈی اے میں شمولیت سرفہرست ہے۔ آندھرا پردیش میں تلگودیشم، کانگریس اور بی جے پی کا موقف کافی کمزور ہے ایسے میں اگر وائی ایس آر کانگریس پارٹی این ڈی اے میں شامل ہوتی ہے تو آندھرا پردیش میں بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی ریاست کے مفادات کے تحفظ کیلئے این ڈی اے میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔ چیف منسٹر کی سطح پر اگرچہ اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا لیکن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سینئر قائد اور اسمبلی میں چیف وہپ جی سریکانت ریڈی نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی این ڈی اے میں شمولیت کے مسئلہ پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔ اگر آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کا درجہ دیا جاتا ہے تو پارٹی این ڈی اے کا حصہ بن سکتی ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن گذشتہ 6 برسوں میں وائی ایس آر کانگریس کی توجہ دہانی کے باوجود مرکز کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایک مرحلہ پر مرکز نے خصوصی موقف کے امکانات کو مسترد کیا۔ اب جبکہ بی جے پی کو این ڈی اے میں شمولیت کیلئے مضبوط حلیف جماعتوں کی تلاش ہے ایسے میں امکان ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی آندھرا پردیش کے خصوصی موقف کے بارے میں مثبت فیصلہ کرسکتے ہیں۔