لٹل ہوانا میں اپنے دوستوں کے ساتھ 77 ویں سالگرہ منائی ، عیسائی پادریوں اور یہودی ربی سے ملاقات
واشنگٹن : سابق امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کو فلوریڈا کے فیڈرل کورٹ ہاؤس میں خفیہ دستاویزات کیس میں پیشی کے موقع پرگرفتاری کے بعد رہا کردیا گیا۔ ڈونالڈٹرمپ نے استدعا کی کہ وہ عہدہ چھوڑتے وقت قومی سلامتی سے متعلق اہم دستاویزات غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے اور ان دستاویزات کی بازیابی کے وقت حکام سے جھوٹ بولنے کے الزامات میں قصوروار نہیں ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران ڈپٹی مارشلز نے سابق صدر کو گرفتار کیا اور ان کے فنگر پرنٹس لیے، ان کے شریک مدعا علیہ والٹ ناؤٹا کو بھی گرفتار کیا گیا، ان کے فنگر پرنٹ بھی لیے گئے اور دیگر کارروائی کی گئی۔ ٹرمپ کی درخواست میامی کی ایک وفاقی عدالت میں امریکی مجسٹریٹ جج جوناتھن گڈمین کے سامنے دائرکی گئی، اس درخواست پر ایک قانونی جنگ شروع کرنے کا امکان ہے جو آنے والے مہینوں میں شروع ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نومبر 2024 کے صدارتی انتخاب دوبارہ جیتنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ روز کمرہ عدالت میں ٹرمپ نے نیلے رنگ کا سوٹ اور سرخ ٹائی پہنی ہوئی تھی، دوران سماعت وہ کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھے رہے لیکن 47 منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران کچھ نہ بولے۔بعد ازاں انہیں کسی قسم کی شرائط، سفری پابندیوں یا ضمانتی مچلکوں کے بغیر عدالت سے باہر جانے کی اجازت دیدی گئی۔جج جوناتھن گڈمین نے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کو کیس میں ممکنہ گواہوں کے ساتھ رابطے کی اجازت نہیں ہے، والٹ ناؤٹا کو بھی ضمانتی مچلکوں کے بغیر رہا کر دیا گیا اور انہیں دوسرے گواہوں سے بات نہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ رواں برس ٹرمپ دوسری بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں، قبل ازیں اپریل میں ٹرمپ ایک پورن اسٹار کو خاموش رہنے کیلئے رقم دینے کے الزام میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔حکام نے گزشتہ روز ٹرمپ کی عدالت آمد کے موقع پر 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر ہونے والا حملہ مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ پرتشدد واقعات کیلئے تیاری کر رکھی تھی، لیکن میامی کے میئر فرانسس سواریز نے صحافیوں کو بتایا کہ وہاں کوئی سکیورٹی مسائل درپیش نہ ہوئے۔ٹرمپ نے بارہا اپنی بے گناہی کا اعلان کیا اور خود کو نشانہ بنانے کا الزام بائیڈن انتظامیہ پر عائد کیا ہے۔انہوں نے خصوصی وکیل جیک اسمتھ (جو استغاثہ کی قیادت کر رہے ہیں) کو سوشل میڈیا پر خود سے نفرت کرنے والا شخص قرار دیا۔عدالت میں پیشی کے بعد کمرۂ عدالت سے تیزی سے نکلے اور اپنے قافلے کے ساتھ ’ورسائی‘ میں رُکے جو شہر کے ’لٹل ہوانا‘ نامی علاقے میں ایک معروف ریستوران ہے۔ٹرمپ کے کئی حامی اُن کی سالگرہ منانے اور ان کے ساتھ مل کر ہلہ گلہ کرنے کے منتظر تھے۔گوکہ ٹرمپ کی سالگرہ اگلے روز یعنی چہارشنبہ کو تھی لیکن ٹرمپ کے حامیوں نے سالگرہ مبارک کے گیت گائے۔ایک انتہائی تناؤ والے دن کے بعد ٹرمپ بھی اچھے موڈ میں نظر آئے جب کہ عدالت میں وہ غیر معمولی طور پر خاموش تھے۔وہاں انہوں نے دو پادریوں اور ایک ربی کے سامنے دُعا کیلئے سر جھکایا، حامیوں سے مصافحہ کیا، تصاویر کیلئے پوز دیا، یہاں تک کہ مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کچھ لطیفے بھی سنائے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایسی حکومت ہے جو قابو سے باہر ہے۔ ٹرمپ جنہیں ایک ’شومین‘ کہا جاتا ہے،انہوں نے خفیہ دستاویزات کیس میں اپنے اوپر فردِ جرم عائد کیے جانے کے موقع پر حامیوں کو وفاقی عدالت میں پیش ہونے کی ترغیب دی تھی جس پر سینکڑوں لوگ وہاں پہنچے تھے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کچھ پوسٹس میں اسے ’وِچ ہنٹ‘ اور ملک کی تاریخ کے افسوس ناک ترین دنوں میںسے ایک سے تعبیر کیا۔