گریٹر حیدرآباد کے تین اضلاع میں انتخابی زلزلہ، 43 لاکھ ووٹوں پر منسوخی کی تلوار

   

7 38 لاکھ ووٹرس کو نوٹسوں کی اجرائی، مزید 10 لاکھ ووٹوں کے اخراج کا خدشہ، نوٹس پر بے عملی مزید 10 لاکھ ووٹ ختم کریگی
7 نوٹس کا جواب دینے 30 دن کی مہلت، اسمبلی حلقوں ملک پیٹ اور یاقوت پورہ میں 40 فیصد سے زائد ووٹوں پر اثر

7 تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ کی کاپیاں سونپ دی گئی ہیں

حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد اور اس سے متصل اضلاع میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت نے ایک بھیانک صورتحال کو اجاگر کیا ہے ۔ اضلاع حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور میڑچل ، ملکاجگری کے انتخابی عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ مسودہ ووٹر لسٹ کے مطابق صرف ان تین
اضلاع میں اوسطاً 37.3 فیصد ووٹوں کو حذف قرار دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ تینوں اضلاع ووٹر لسٹ کی شفافیت اور اپ ڈیٹنگ کے معاملہ میں ریاست بھر میں سب سے آخری نمبر پر رہے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق 10 جون تک ان تینوں اضلاع میں مجموعی ووٹرس کی تعداد 1.14 کروڑ تھی جو اب گھٹ کر صرف 71 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ابتدائی کارروائی میں ہی 43 لاکھ ووٹرس کے نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج کئے جاچکے ہیں ۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 38 لاکھ ووٹرس کو نوٹس دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ ووٹ کی منسوخی کا خطرہ برقرار ہے۔ ووٹوں کی منسوخی کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل
باقی 71 لاکھ ووٹرس میں سے 54.72 فیصد (یعنی 38 لاکھ 93 ہزار 617 ووٹرس) کو الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری کی جائے گی ۔ یہ نوٹس اور مینومریشن فارمس 16 ستمبر تک بی ایل ایز کے ذریعہ ووٹرس کے گھر گھر تقسیم کئے جائیں گے ۔ ووٹرس کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات اور اعتراضات کی جانچ 15
اکتوبر تک مکمل کی جائے گی ، جس کے بعد 19 اکتوبر کو قطعی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی ۔ اگر نوٹس موصول کرنے والے ووٹرس نے اپنے تسلیم شدہ شناختی دستاویزات میں سے کوئی ایک جمع نہیں کرائے تو 43 لاکھ ووٹوں کے ساتھ مزید 10 لاکھ ووٹ کے منسوخ ہونے کا قوی خدشہ ہے ۔ اسمبلی حلقہ ایل بی نگر میں صرف 55.56 فیصد ووٹ ہی ڈیجیٹلائیز ہوسکتے ہیں اور ان میں سے تقریباً نصف ووٹرس غیر میاپنگ ہیں یعنی اینومریشن فارم میں 2002 کی ووٹر لسٹ سے والدین یا خونی رشتہ داروں کی تفصیلات منسلک نہیں کی گئی ۔ اسمبلی حلقہ قطب اللہ پور اور کوکٹ پلی ان دونوں اسمبلی حلقوں میں 60 فیصد سے زائد ووٹرس غیر میاپنگ شدہ پائے گئے جس کی وجہ سے ان تمام ووٹرس کو نوٹس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسمبلی حلقہ ملک پیٹ میں 44.76 فیصد اور اسمبلی حلقہ یاقوت پورہ میں 41.33 فیصد ووٹوں پر منسوخی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ مسودہ ووٹر لسٹ کی تمام کاپیاں میونسپل دفاتر وارڈ دفاتر اور تمام ایم آر اوز دفاتر کے نوٹس بورڈس پر آویزاں کردی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو بھی ووٹر لسٹ کی کاپیاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ وہ فیلڈ لیول پر تصدیقی عمل کیک نگرانی کرسکیں۔ ریاست کے اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں 40 فیصد زائد ووٹوں پر اثر پڑا ہے ۔ ریاست کے 26 دیہی اسمبلی حلقوں میں 90 فیصد سے زائد اینومریشن فارمس کا ڈیجیٹلائیزیشن مکمل ہوا ہے ۔2/k/i