حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) ہائی کورٹ کے کارگذار چیف جسٹس سجئے پال اور جسٹس رادھا رانی پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو خواتین کے تحفظ کے مسئلہ پر دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواست پر جواب داخل کرنے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ سماجی کارکن ڈاکٹر کے اے پال نے مفاد عامہ کی درخواست میں شکایت کی کہ عصمت ریزی اور دیگر واقعات کے سلسلہ میں پولیس ایف آئی آر درج کرنے اور ٹرائیل کے عاجلانہ اختتام کو یقینی بنانے میں حکام ناکام ہیں۔ خواتین کے تحفظ کیلئے بروقت اقدامات کی درخواست کرتے ہوئے مفاد عامہ کے تحت ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ ڈیویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو دو ہفتے کا وقت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 4 فروری کو مقرر کی ہے۔ کے اے پال نے شخصی طور پر عدالت میں پیش ہوتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں پولیس عصمت ریزی کے واقعات میں ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ ایف آئی آر کے فوری اندراج کی پولیس کو ہدایت دی جائے۔ اسپیشل گورنمنٹ پلیڈر اور اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل نے درخواست گذار کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اگر کوئی مخصوص کیسس کا حوالہ دیا جائے تو کارروائی کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے مسئلہ کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو آئندہ سماعت تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔1