خواجہ معیز الدین قتل ‘ عدالتی تحقیقات سے حقیقت سامنے آسکتی ہے

   

پولیس ‘ دوستی اور سیاسی دباؤ کی شکار ۔ چیک باؤنس کیس سے اپنوں کو بچانے سے بھی تار جڑ سکتے ہیں
حیدرآباد۔24۔مئی۔(سیاست نیوز) معروف وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتہ چلانے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے لازمی ہے کہ عدالت کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ جناب خواجہ معزالدین کے سفاکانہ قتل پر شہر میں گرمانے والی سیاست نے پولیس تحقیقات کو مشتبہ بنانا شروع کردیا ہے کیونکہ برسراقتدار کانگریس اور کانگریس سے دوستی رکھنے والی مجلس دونوں ہی اس معاملہ میں سرگرم ہوچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پولیس عہدیدار دونوں جماعتوں کے دباؤ میں ہیں اسی لئے پولیس سے غیر جانبدرانہ تحقیقات اور حقیقی قاتلوں کو منظر عام پر لانے کی توقعات پر شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ جناب خواجہ معز الدین جو کہ سینیئر کونسل جناب غلام یزدانی کے داماد تھے کے قتل نے نہ صرف شہر کی لاء اینڈ آرڈر صورتحال پر سوالات کھڑے کئے ہیں بلکہ مجلسی قیادت کے اچانک ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر بھی مختلف گوشوں میں سرگوشیاں کی جانے لگی ہیں ۔وکلاء برادری کا کہناہے کہ اگر اس مقدمہ کی تحقیقات جامع اور غیر جانبداری کے ساتھ کی جاتی ہیں تو اپنے حق میں عدالت کے احکام حاصل کرنے ججس کو رشوت کے مقدمہ اور اس میں شامل سینئیر کونسل و دیگر ملزمین تک یہ کڑیاں جڑنے کا امکان ہے اسکے علاوہ ملک پیٹ ممتاز کالج کے قریب واقع ایک اراضی سے متعلق چیک باؤنس معاملات بھی منظر عام پر آسکتے ہیں۔ دن دہاڑے قلب شہر میں معزز وکیل کے قتل نے اوقافی جائیدادوں پر قبضہ جات پر توجہ دہانی کے ساتھ شہر اور اطراف میں اراضیات معاملتوں اور سیاسی مخاصمت کو ہوا دینی شروع کردی ہے۔وکلاء برادری اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جناب معز الدین کی خدمات بالخصوص ممتاز کالج ‘ انوارالعلوم کالج ‘ مدرسۂ اعزہ جو کہ ممتاز یار الدولہ وقف کے تحت ہیں کے تحفظ کیلئے طویل جدوجہد کا نہ صرف اعتراف کر رہی ہے اور شاہی مسجد باغ عامہ میں موجود مولانا آزاد اورینٹیل اینڈ ریسرچ انسٹیٹیو ٹ کے تخلیہ کے خلاف عدالت سے رجوع ہوکر پیروی کا تذکرہ کر رہی ہے جو کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی میں کروایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں جناب معز الدین ایڈوکیٹ کے فرزند جناب ثناء اللہ فرحان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میں سی ای او وقف بورڈ کے تقرر کو بھی چیالنج کرکے مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ سیاسی گوشوں کی چہ میگوئیوں کے مطابق اگر عدالت کی نگرانی کے بغیر خواجہ معز الدین کے قتل کی تحقیقات کی جاتی ہیں تو حقیقی قاتلوں تک پہنچنے کی بجائے محض مبینہ ملزمین یا گاڑی ڈرائیور اور ٹکر مارنے والی گاڑی میں موجود افراد کے خلاف مقدمہ کے ذریعہ معاملہ کو ختم کرلئے جانے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے اس قتل کی جامع تحقیقات کو یقینی بناکر کسی غیر جانبدار تحقیقاتی ایجنسی یا عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کروائی جاتی ہیں تو حقائق منظر عام پر لائے جاسکیں گے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کو ممتاز یار الدولہ وقف کے تحت موجود جائیدادوں انوارالعلوم کالج‘ ممتاز کالج ملک پیٹ‘ مدرسہ ٔ اعزہ کی معاملتوں کی جامع تحقیقات میں وقف بورڈ عہدیداروں کو شامل کیا جانا چاہئے ۔ عوام میں جوسوالات گشت کر رہے ہیں ان میں یہ پوچھاجانے لگا کہ آیا
٭سینیئر کونسل کی ججس کو رشوت کے معاملہ سے اس قتل کو جوڑ کر دیکھا جائے گا؟
٭ کیا ممتاز کالج کے اطراف اراضیات کی فروخت اور چیک باؤنس معاملوں کوبھی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا؟
٭ کیا لکڑی کا پل پر واقع ممتاز یارالدولہ وقف کی زائد از 10ہزار مربع گز میں ہونے والی معاملتوں کی جانچ کی جائیگی ؟
٭اب جبکہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جناب خواجہ معز الدین نے اپنی جان گنوا دی ہے تو کیا اوقا فی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت یا وقف بورڈ ذمہ داری پوری کریگا؟۔
٭سیاسی قائدین جو ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرینگے یا متعلقہ پولیس کی تحقیقات پر اکتفاء کریں گے؟
٭محکمہ اقلیتی بہبود اب وقف بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے کی راہ ہموار کریگا یا اس طرح کے مزید واقعات کا انتظار کیا جاتا رہیگا؟3