گوا سے حیدرآباد منتقلی ۔ اسکارپیو کار کا بھی پتہ چل گیا ۔ موبائیل لوکیشن سے تحقیقات میں مدد
حیدرآباد : /24 مئی (سیاست نیوز) شہر کے سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کے قتل کیس میں پولیس نے آج پیشرفت کرکے اس کیس میں ملوث 4 ملزمین کو حراست میں لے لیا اور قتل میں استعمال کی گئی کار کو بھی ضبط کرلیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی اسپیشل ٹیم نے گوا پہنچ کر خواجہ معز الدین ایڈوکیٹ کے قتل کیس کے 4 ملزمین جن کی شناخت ونئے سنگھ ، ابھیجیت ( کار ڈرائیور ) ، کشن سنگھ اورجعفر کی حیثیت سے کی گئی کو حراست میں لے لیا اور انہیں شہر منتقل کیا جارہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ونئے نامی ملزم بھی اس کیس میں شامل ہے جو قتل کی سازش سے واردات انجام دینے تک کار میں موجود رہا ۔ پولیس نے سیاہ اسکارپیو کار کے اصلی مالک کو بھی حراست میں لے لیا ہے لیکن اس نے یہ بتایا ہے کہ 6 ماہ قبل ہی اپنی گاڑی دوسرے افراد کو فروخت کردی تھی لیکن گاڑی مالک کے ٹرانسفر کی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی ۔ نامپلی پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک اسپیشل ٹیم نے کمشنر ٹاسک فورس کی مدد سے یہ آپریشن انجام دیتے ہوئے خواجہ معز الدین قتل کیس ملزمین کا ان کے موبائیل فون کے ذریعہ پتہ لگایا اور انہیں فوری حراست میں لے لیا اور بذریعہ فلائیٹ انہیں حیدرآباد منتقل کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ پولیس نے قتل کے دن ہی خاطیوں کا پتہ لگالیا تھا اور ان کے تصاویر ، قتل میں استعمال کی گئی گاڑی جسے پوشیدہ رکھا گیا تھا کا پتہ لگالیا ۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کا تجزیہ کیا جس میں خاطیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں ٹھوس شواہد دستیاب ہوئے ۔ ملزمین کی مقتول کے گھر کے قریب موجودگی کا بھی موبائیل فون کے ٹاور لوکیشن کے ذریعہ پتہ چلایا گیا ہے ۔ دریں اثناء اے سی پی پولیس عابڈز پروین کمار کی زیرنگرانی محبوب عالم خان اور ان کے بیٹے مجاہد عالم خان کو اے سی پی دفتر طلب کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی ۔ بعد ازاں اس تحقیقات کے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے قتل کی سازش سے واردات انجام دینے تک کا معمہ حل کرلیا اور کیس کی تفصیلات کا پیر کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس قتل کی سازش در اصل ڈسمبر 2025 میں ہی رچی گئی تھی تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس منصوبہ کو ملتوی رکھا گیا تھا ۔حالیہ دنوں میں پولیس ملک پیٹ میں ممتاز یار الدولہ وقف کی اراضی فروخت کا مسئلہ ایک بار پھر منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد دو علیحدہ مقدمات بھی درج ہوئے تھے ۔ ان حالات کے بعد قتل کے منصوبہ پر عمل کردیا گیا ۔ بy/