دارلعلوم دیو بند میں ہیلی پیڈ بنانے کی شکایت‘ تفتیش میں غلط نکلے الزامات

,

   

ڈی ایم او رایس ایس پی سمیت تمام افسران درالعلوم دیو بند پہنچے‘ شکایت ملی تھی کہ یہاں غیرقانونی ہیلی پیڈ بنایاجارہا ہے

دیو بند۔ درالعلوم دیو بند میں زیرتعمیرلائبریری کی چھت پر بغیر اجازت ہیلی پیڈ بنانے کی وزیراعظم کے دفتر میں کی گئی شکایت کے بعد انتظامیہ کی طرف سے زیر تعمیرعمارت کی تفتیش کے لئے ایک ٹیم وہاں پہنچی۔

اسی سلسلے میں ڈی ایم او رایس ایس پی نے کافی تعداد میں پولیس حکام کے ساتھ دیو بند پہنچ کر زیرتعمیر عمارت کا معائنہ ساتھ ہی ادارے کے ذمہ داران سے مالقات کرکے تعمیر کے معاملے میں تفصیلی معلومات حاصل کی۔

ہفتہ کی صبح قریب گیارہ بجے ضلع مجسٹریٹ آلوک پانڈے او را یس ایس پی دنیش کمار پولیس کی بھاری جمعیت او رپی ڈبلیو ڈی کے انجینئروں کو ساتھ لے کر درالعلوم دیو بند پہنچے اور احاطے کے اندر بنائی جارہی خوبصورت لائبریری کی عمارت کے قریب سے معائنہ کیا۔

حکام نے زیر تعمیرلائبریری کے اندر جاکر بھی دیکھا او ریہ بھی معلوم کیاکہ عمارت کتنی منزل پر مبنی ہے۔ او رعمارت کی پہلی منزل پر کیابنایاگیاہے۔

اس عمارت میں ایک وقت میں کتنے لوگ داخل ہوسکتے ہیں۔ قریب آدھے گھنٹے تک زیرتعمیرعمارت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد دونوں افسران درالعلوم کے انتظامیہ سے ملاقات کی اوتعمیرکے بارے میں تفصیل سے معلومات حاصل کی۔

اس دوران میڈیاسے روبرو ہوتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ آلوک پانڈے نے بتایا کہ درالعلوم دیوبند کے احاطے میں بغیر اجازت ہیلی پیڈ بنانے کی شکایت ملی تھی‘ جس کی جانچ کرنے کے لئے صرف آج وہ اور ایس ایس پی سہارنپور دیو بند ائے ہیں۔

بتایا کہ ان کے ساتھ ائے پی ڈبلیو ڈی انجینئر تعمیرعمارت پر ٹکنیکل رپورٹ دیں گے جس کی بنیادپر کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ بجرنگ دل کے صوبائی کنونیر وکاس تیاگی نے درالعلوم دیو بند کی تعمیر شدہ لائبریری کے چھت پر غیرقانونی طور سے ہیلی پیڈ بنائے جانے کی شکایت صوبہ کے وزیراعظم یوگی ادتیہ ناتھ کو خط بھیج کرکی تھی۔

اس مکتوب میں مقامی حکام کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔

مذکورہ خط پر نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی کے دفتر نے ضلع حکام کو جانچ کے ہدایت دیئے تھے۔و ہیں یہ بات صاف ہوگئی کہ زیرتعمیر عمارت میں ہیلی پیڈ تعمیرنہیں ہورہا ہے۔

بغیراجازت عمار ت کی تعمیر اصولوں کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

جانچ جاری ہے بغیراجازت تعمیرپر کمپاونگ کی جاسکتی ہے۔

درالعلوم انتظامیہ تحقیقات میں مکمل تعاون کررہا ہے وا راصولوں کے مطابق جرمانے کے لئے بھی تیار ہے جرمانہ کتنا ہوگا ابھی یہ طئے نہیں ہے۔