داعش سے روابط: گرفتار ملزم محمد ثاقب کی 8سال بعد ضمانت منظور

   

نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) سال 2016کے وسط میں ملک کی راجدھانی دہلی اور دیگر ر یاستوں سے دہشت گردی کے الزمات اور ممنوع دہشت گرد تنظیم داعش سے روابط رکھنے کے معاملے میں تفتیشی ایجنسیوں نے ایک درجن سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا جس میں ہاپوڑ کے محمد ثاقب بھی شامل تھے ۔گذشتہ کل دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سخت شرائط کے ساتھ محمد ثاقب کی ضمانت منظور کی۔ جاری ریلیز کے مطابق 26 دسمبر 2018 کو محمد ثاقب کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے ملزم کے مقدمہ کی نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ میں پیروی کی۔ ایڈوکیٹ صارم نوید اور ان کے معاونین وکلاء نے محمد ثاقب کی ضمانت کی عرضی پر کامیاب بحث کی۔دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس نوین چاؤلہ اور جسٹس رویندر دودیجا نے کمزور ثبوت اور طویل جیل کو بنیاد بناکر ملزم کی ضمانت منظور کی ہے جبکہ استغاثہ نے ملزم کو ضمات پر رہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ملزم کے خلاف پولیس اور جج کے سامنے اپنا بیان درج کرانے والے گواہان کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں اور یہ گواہیاں اتنی پختہ نہیں ہیں کہ ملزم کو مزید جیل میں رہنے پر مجبور کیا جائے اور کہا کہ گذشتہ دس سالوں میں استغاثہ نے 120 سرکاری گواہان میں سے صرف 40 گواہان کو عدالت کے سامنے پیش کیا ہے۔
نیز اگر اسی رفتار سے مقدمہ کی سماعت چلتے رہی تومستقبل قریب میں ٹرائل کا اختتام مشکل نظر آتا ہے ۔