درجنوں چینی مسیحی، پناہ کی تلاش میں تھائی لینڈ پہنچ گئے

   

بنکاک : کئی برسوں سے جاری ناروا سلوک نے بالآخر درجنوں چینی مسیحیوں کو ملک چھوڑ کر دیار غیر میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ تاہم ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ چین چھوڑ دینے کے باوجود بھی انہیں بیجنگ کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔چین میں کئی برسوں سے تکلیف دہ حالات میں رہنے اور جنوبی کوریا میں سیاسی پناہ نہ ملنے کے سبب 57 چینی مسیحی افراد کا ایک گروپ گزشتہ ماہ تھائی لینڈ پہنچا۔ ان کا مقصد اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے ذریعے تھائی لینڈ میں سیاسی پناہ حاصل کرنا تھا۔2019ء میں چین چھوڑ دینے کے باوجود چرچ کے ان ارکان کی طرف سے اپنی زندگی کو مشکلات میں گھری ہوئی اور مسلسل خطرات کا شکار قرار دیا گیا۔یہ چرچ چینی شہر شینزن میں قائم کیا گیا تھا اور قیام کے بعد سے اسے مقامی حکام کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے تجربات سے گزرنا پڑا، کیونکہ ابیجنگ نے مذہبی برادریوں پر کنٹرول مزید بڑھا دیا ہے۔اس چرچ کے ایک پاسٹر پان یونگوانگ کے مطابق، ”سال 2014ء کے بعد سے پولیس ہماری عبادت کی جگہ پر چھاپے مار چکی ہے، مجھے سوالات کے لیے بلا چکی ہے اور ہمارے کمپیوٹرز اور بائبل قبضے میں لے چکی ہے‘‘۔