درکار دستاویزات کے بغیر درخواستیں قبول کرنے عہدیداروں کو ہدایت

,

   

ثبوت کی پیشکشی کیلئے اصرار نہ کیا جائے، ریاستی وزیر پونم پربھاکر نے عوامی دشواریوں کا جائزہ لیا، 6 ضمانتوں سے استفادہ کیلئے سفارش کی ضرورت نہیں
حیدرآباد ۔29۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت کی 6 ضمانتوں سے استفادہ کیلئے ریاست بھر میں عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے حکومت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ درخواستوں کی قبولیت کے معاملہ میں درکار سرٹیفکٹس پیش کرنے اصرار نہ کریں۔ حیدرآباد کے انچارج و وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے دفاتر میں درخواستوں کے ادخال کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ عوام نے ریاستی وزیر سے شکایت کی کہ عہدیدار درخواست فارم کے ساتھ ضروری اسنادات کی نقل پیش کرنے اصرار کر رہے ہیں۔ درخواستوںکے ادخال کی آخری تاریخ 6 جنوری ہے ، لہذا فوری درکار اسنادات کا انتظام کرنا ممکن نہیں ہے۔ پونم پربھاکر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ عوام سے اپنے دعوے کے حق میں سرٹیفکٹس کی عدم موجودگی کے باوجود درخواستوں کو قبول کرلیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ درخواستوں کی جانچ کے دوران مستحق افراد کا انتخاب ہوگا اور کوئی بھی مستحق شخص اسکیمات کے فوائد سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کیلئے کسی کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے اور مکمل شفافیت سے امیدواروں کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔ پربھاکر نے کہا کہ ابھئے ہستم پرجا پالنا پروگرام کے تحت ریاست بھر میں 6 جنوری تک درخواستیں قبول کی جائیں گی۔ ہر پنچایت و بلدی وارڈ میں خصوصی کاؤنٹرس قائم کئے گئے ہیں اور حکومت نے تینوں زبانوں میں درخواست فارمس بڑی تعداد میں سربراہ کئے ہیں۔ وزیر کے مطابق درخواستوںکے ادخال میں کوئی شبہات ہوں تو عہدیداروں سے رجوع کریں۔ عوام نے 10 سال کے وقفہ کے بعد کانگریس کو اقتدار عطا کیا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام سے وعدوں کو تکمیل کریں۔ گریٹر حیدرآباد کے 150 بلدی وارڈس میں 600 مراکز قائم کئے گئے۔ واضح رہے کہ درخواستوں کے ادخال کے پہلے دن عوام کو درخواست فارم کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور زیراکس سنٹرس کے مالکین نے 20 تا 40 روپئے حاصل کرکے درخواست فارم حوالے کئے ۔ عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے قابل لحاظ تعداد میں درخواست فارمس ہر مرکز پر فراہم کئے ہیں۔ درخواستوں کے ادخال کے دوسرے دن آج مراکز پر غیر معمولی ہجوم نہیں تھا اور لوگ اطمینان سے درخواستوں کی تکمیل کرکے داخل کر رہے تھے۔ انکم سرٹیفکٹ اور آدھار کارڈ اپ ڈیٹ کیلئے عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ اسکیمات سے استفادہ کیلئے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ۔ اسی دوران چیف سکریٹری شانتی کماری نے ضلع کلکٹرس کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں درخواستوں کے ادخال کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے دن 746414 درخواستیں داخل کی گئیں۔ دیہی علاقوں سے 288711 اور گریٹر حیدرآباد کے بشمول شہری علاقوں میں 457703 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ چیف سکریٹری نے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ خصوصی مراکز پر زائد اسٹاف کو متعین کریں تاکہ عوام کی موثر رہنمائی کی جاسکے۔ درخواستوں کے ادخال کے موقع پر کانگریس نے اپنے ارکان اسمبلی اور مجالس مقامی نمائندوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں مراکز کا دورہ کرکے انتظامات کی نگرانی کریں۔ درخواستوں کے ادخال کے پہلے دن حیدرآباد کے 7 مختلف زونس میں 198009 درخواستیں داخل کی گئیں۔ چارمینارزون میں 43798 ، خیریت آباد زون میں 28068 ، کوکٹ پلی زون میں 39355 ، ایل بی نگر زون میں 31513 ، سکندرآباد زون میں 31414 اور شیر لنگم پلی زون میں 19828 درخواستیں داخل کی گئیں۔1