دس ہزار پی او سی ایس او معاملہ‘200میں سنائی گئی سزا۔ کرناٹک کیا بچوں کی حفاظت میں ناکام ہورہا ہے؟۔

,

   

ریاست کے محکمہ جرائم کے ریکارڈس سے انکشاف ہوا ہے کہ پی او سی ایس او معاملات میں بنگلور و سب سے اوپر ہے‘ جہاں پر تین سال کی مدت میں 1454معاملات درج ہوئے ہیں

بنگلورو۔کرناٹک میں گذشتہ تین سالوں میں 2021سے2023کے درمیان پی او سی ایس او(بچوں کا جنسی جرائم سے تحفظ)میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوجا ہے جس میں اس مدت کے درمیان 9862مقدمات درج ہوئے ہیں۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ اس میں سنائی جانی والی سزا کی شرح بہت کم ہے‘ صرف202مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے۔بچوں کی حفاظت اور جنسی جرائم کی روک تھام کیلئے حکومتوں کی متعدد اسکیمات کے باوجود‘ جنسی تشدد اوربچوں کی شادیوں کے متعلق معاملات کامسلسل رونما ہونا فوری اور موثر عدالتی ردعمل کی ضرورت پر زوردیتا ہے۔

ریاست کے محکمہ جرائم کے ریکارڈس سے انکشاف ہوا ہے کہ پی او سی ایس او معاملات میں بنگلور و سب سے اوپر ہے‘ جہاں پر تین سال کی مدت میں 1454معاملات درج ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس بلیگاوی اور کلبرگی میں سب سے کم واقعات رونما ہوئے ہیں اور یہاں پر ہر ایک میں 79معاملات پیش ائے ہیں۔ مزیدبرآں 129معاملات فرضی ثابت ہوئے ہیں وہیں 257معاملات مختلف اسٹیشنوں کو تحقیقات کے لئے منتقل کردئے گئے ہیں۔

بات چیت کے ذریعہ اٹھ معاملات کو حل کیاگیاہے۔سیاست ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے چائلڈ راء ٹرسٹ ایکزیکٹیو ڈائرٹر واسودیو شرما نے کہاکہ رپورٹنگ میں بتدریج تبدیلی نے ریکارڈ شدہ کیسوں کی تعدا د میں اضافہ کیاہے۔

انہوں نے کہاکہ ”جب تک پی او سی ایس او ایکٹ 2012میں نافذ نہیں ہوا لوگ خوف کی وجہہ سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے سے ہچکچارہے تھے۔اب بڑھتی ہوئی بیداری کے ساتھ ساتھ والدین اور متاثرہ بچے پولیس سے رجوع کرنے کے لئے زیادہ مائل ہیں۔

تاہم ملزمین کوسزا دینے کی رفتار اب بھی سست ہے“۔اسٹیٹ کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کے ایک رکن ششی دھرا کوسامبی نے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو روکنے کے لئے تیز رفتاررتحقیقات اور سزا کی اہم ضرورت پر زوردیا۔

انہوں نے طویل قانونی عمل کوتسلیم کرتے ہوئے کہاکہ قانون کی حکمرانی ایک سال کے اندر مکمل ہونا لازمی قراردیتی ہے۔ تاہم تحقیقا ت او رعدالتی سماعتوں میں اکثر دوسے تین سال کا عرصہ ہوتا ہے“۔

اگرچہ پی او سی ایس او ایکٹ بچوں کی حفاظت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے‘ ہموار تفتیشی عمل اور تیزسزاؤں کی ضرورت اب بھی ضروری ہے۔ خدشات

برقرار ہیں کیونکہ ریاست متاثرین کے لئے انصاف کو یقینی بنانے او رمجرموں کو جوابدہ ٹہرانے کے چیلنج سے نمٹ رہی ہے۔