دنیا میں امن و استحکام ہمارے خطہ سے ہی جنم لیگا، ایرانی صدر کا بڑا بیان

   

مضبوط عزم رکھنے والی قوم کو کوئی طاقت ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتی: مسعودپزشکیان

تہران۔30؍اگست ( ایجنسیز ) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر دنیا میں پائیدار امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو اس کی بنیاد مشرق وسطیٰ کے خطہ سے ہی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایک مضبوط عزم رکھنے والی قوم کو کوئی طاقت ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق ایران دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی وہ جنگ چاہتا ہے، تاہم اگر کسی جانب سے جارحیت کی گئی تو ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خود فیصلہ سازی کو اہمیت دینی چاہیے۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے نئے علاقائی معاہدوں کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ مسلم ممالک کو اپنی سکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور باہمی تعاون پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتہ وحدت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں قالیباف نے کہا کہ حالیہ علاقائی حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بیرونی طاقتیں مسلم ممالک کو دیرپا سکیورٹی فراہم نہیں کرسکتیں۔انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کی بنیاد مسلم ممالک کی اپنی مرضی، باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات نے مسلم اتحاد اور باہمی تعاون کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے درمیان تعاون نے دشمن کو شکست دینے اور خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کو پیچھے دھکیلنے میں مدد دی ہے۔ایرانی صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مفاہمت پر عملدرآمد امریکی وعدوں سے مشروط ہے:ایران
تہران ۔ 30 اگست (ایجنسیز) ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظامات کے حوالے سے سلطنتِ عمان کے ساتھ مفاہمت طے کرلی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتظامات اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوں گے جب تک امریکہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔آبادی نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں مزید کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ بحری گزرگاہ اب بھی بند ہے اور آبنائے ہرمز سے کسی بھی بحری جہاز کی گزرگاہ ایران کے ساتھ رابطہ اور اجازت کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعے کے روز آبنائے ہرمز کھلے ہونے سے متعلق امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیںواضح جھوٹ قرار دیا۔پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر اسے ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بحری گزرگاہ ان بحری جہازوں کے لیے بند ہے ،جو تہران کے ساتھ رابطہ اور اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔یہ بات ان امریکی حکام کے بیانات کے جواب میں سامنے آئی جنہوں نے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے جبکہ امریکی فوج اب عملی طور پر اس بحری گزرگاہ کے بیشتر حصے کو کنٹرول کر رہی ہے۔
امریکی حکام کے یہ بیانات جمعے کے روز امریکی ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ نے نقل کیے۔امریکی حکام کے مطابق تہران کی بحری جہازوں کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں میں سے صرف 2 فیصد کو ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔مزید 200 سے زائد ایسی اشیا، جو بارودی سرنگوں سے مشابہ تھیں، آبنائے ہرمز کی مرکزی گزرگاہ سے ہٹا دی گئی ہیں، تاہم ان میں سے صرف 11 حقیقی بارودی سرنگیں تھیں۔