بنگلورو۔ 31 اکتوبر (یو این آئی) صارفین اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کے درمیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ قیمتوں میں نظرثانی سے دیہی ڈیری معیشت میں سالانہ 1,850 کروڑ سے 2,100 کروڑ روپے کی اضافی رقم پہنچے گی، جس سے تقریباً 28.84 لاکھ دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ قیمتوں کی نئی شرحیں یکم نومبر سے نافذ ہوں گی۔ اس کے تحت دودھ کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اور دہی کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے ۔ نندنی ٹونڈ ملک کی قیمت 46 روپے سے بڑھ کر 54 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔ شیوکمار نے کہا کہ مویشیوں کے چارے اور بھوسے کی قیمتوں میں اضافے ، ایندھن اور پیکنگ کے بڑھتے اخراجات اور خشک سالی کے باعث دودھ کی خریداری میں نمایاں کمی کے پیش نظر قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔ دودھ کی قیمت میں کیے گئے 8 روپے کے اضافے میں سے 7 روپے براہِ راست کسانوں کو ملیں گے ، جس سے دودھ کی خریداری کی قیمت 35 روپے سے بڑھ کر 42 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔ باقی ایک روپیہ دودھ کوآپریٹو یونینوں کو دیا جائے گا تاکہ نقل و حمل، ایندھن اور پیکنگ سمیت دیگر انتظامی اخراجات پورے کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پہلے سے دی جانے والی 5 روپے فی لیٹر کی ترغیبی رقم شامل کرنے کے بعد کسانوں کو فی لیٹر دودھ کے 47 روپے حاصل ہوں گے ۔ حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، خشک سالی کے باعث ڈیری شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور گزشتہ چار سے پانچ ماہ کے دوران کوآپریٹو اداروں کی جانب سے روزانہ دودھ کی خریداری میں تقریباً 10 لاکھ لیٹر کی کمی آئی ہے ۔ ریاست کے تقریباً 228 تعلقہ خشک سالی سے متاثر ہیں، جس سے زرعی اور ڈیری شعبے سے وابستہ خاندانوں پر مزید دباؤ پڑا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ روزانہ 10 لیٹر دودھ فراہم کرنے والے کسان کی آمدنی میں قیمتوں کی نئی شرحوں کے بعد ماہانہ 2,100 روپے کا اضافہ ہوگا۔ کرناٹک ملک فیڈریشن (کے ایم ایف) سے وابستہ تقریباً 67 فیصد ڈیری کسان چھوٹے اور معمولی درجے کے کاشت کار ہیں، اس لیے دودھ کی خریداری کی قیمت میں اضافہ دیہی معیشت اور روزگار کے لیے اہمیت رکھتا ہے ۔