چینائی۔ 30 ۔اکتوبر (یواین آئی) ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اسرو) نے جمعہ کی رات 11:51 بجے اپنے جی ایس ایل وی۔ایف 18 / این وی ایس03 مشن کو خلا کیلئے روانہ کردیا ہے۔ اس مشن کے لیے جمعرات کی رات سے الٹی گنتی شروع کی گئی تھی۔ 2,250کلوگرام وزنی جی ایس ایل وی۔ایف 18 / این وی ایس03 نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن (ناوِک) مشن آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کردیا گیا۔ دفاعی ضروریات کو مضبوط بنانے کیلئے ناوِک سیٹلائٹ نظام کو مکمل طور پر فعال کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا یہ مشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ تقریباً 20 منٹ کی پرواز اور راکٹ کے تینوں مراحل کے الگ ہونے کے بعد سیٹلائٹ میں موجود لیکویڈ اپوجی موٹر کو فعال کرکے اسے حتمی جیو اسٹیشنری مدار میں پہنچایا جائے گا۔ناوِک ہندوستان کا اپنا آزاد علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام (GPS) ہے ۔ اسے ملک کے پورے جغرافیائی علاقے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سرحدوں سے تقریباً 1,500 کلومیٹر تک پھیلے خطے میں درست پوزیشننگ، نیویگیشن اور ٹائمنگ خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
اسرو کے مطابق، این وی ایس03 دوسری نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹ سلسلے کا تیسرا سیٹلائٹ ہے ، جسے پہلی نسل کے آئی آر این ایس ایس سیٹلائٹ سلسلے کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس میں غیر ملکی ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ ایٹمی گھڑی بھی نصب کی گئی ہے ۔ موجودہ ایل 5 اور ایس سگنلز کے علاوہ اس میں ایل 1 سگنل بھی شامل کیا گیا ہے ، جو ہندوستان اور اس کے اطراف 1,500 کلومیٹر کے دائرے میں نیویگیشن خدمات فراہم کرے گا۔تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے پیش نظر ناوِک سیٹلائٹ نظام کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کے باعث اس مشن کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے ۔پی ایس ایل وی کے مسلسل دو مشنوں میں ناکامی کے بعد اس لانچنگ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ گزشتہ ماہ جی ایس ایل وی-ایف 17 / ای او ایس-05 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ (جی سیٹ-1 اے ) مشن کی کامیابی کے بعد خلائی ایجنسی نے ایک مرتبہ پھر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اسی کامیابی سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے اسرو اب ہندوستان کے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کو مکمل طور پر فعال کرنے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے ۔