انڈیا اتحاد کا رام لیلا مارچ

   

تلاطموں سے لڑے آندھیوں سے ٹکرائے
اٹھائے ایسا قدم جوئے شیر لے آئے
اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد کی جانب سے کل یکم نومبر اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان تک مارچ کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ اس مارچ کیلئے تیاریاں عملا پوری ہوچکی ہیں۔ملک کی مختلف ریاستوں سے ہزاروں افراد اس مارچ میں شرکت کرنے کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس میں شامل ہیں۔ کئی عوامی تنظیموں کے نمائندے اس میں شامل ہونگے ۔ کئی سیول سوسائیٹی تنظیمیں اس میں شامل ہو رہی ہیں اور طلباء و نوجوان ‘ وکلا اور دیگر افراد بھی اس میں شمولیت کیلئے آگے آرہے ہیں۔ یہ کہا جا رہے کہ اس ریلی کو تاریخ ساز بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس ریلی کیلئے اجازت تو دیدی گئی ہے تاہم اس ریلی کو روکنے کیلئے کئی کوششیں بھی کی گئیں۔ دہلی کے تاجروں کے ذریعہ ریلی کو ملتوی کرنے کیلئے اپیل کی گئی اور اس بات کا حوالہ دیا گیا کہ تہواروں کے سیزن میں دیوالی سے قبل اس طرح کی صورتحال سے تاجروں کا نقصان ہوسکتا ہے ۔ پہلے قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو مکتوب روانہ کیا گیا ‘ پھر صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کیا گی اور اب یو پی اے کی صدر نشین سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریلی کو ملتوی کرنے پر زور دیا گیا تاہم انڈیا اتحاد کی جماعتیں یہ ریلی منعقد کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر اٹل ہیں اور چاہتی ہیں کہ ریلی بروقت ہوسکے ۔ اس کو تاریخ ساز بنانے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس ریلی کا بہت پہلے اعلان کیا گیا تھا اور ملک میں ایس آئی آر کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی علیحدگی کے مطالبہ پر اس ریلی کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اس کے ذریعہ اپوزیشن جماعتیں اپنے مطالبہ میں شدت پیدا کرنا چاہتی ہیں اور وہ اس احتجاج کے ذریعہ سارے ملک میں رائے عامہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ایس آئی آر کے نام پر جو کروڑوں افراد رائے دہی کے حق سے محروم کئے گئے ان کیلئے یہ جدوجہد کی جا رہی ہے اور کسی تاجر برادری یا تجارتی افراد کے خلاف یہ ریلی نہیں ہے ۔ اب تو اس ریلی کی تیاریاں بالکل قطعی مرحلہ میں پہونچ چکی ہیں اور انہیں تکمیل تک پہونچایا جا رہا ہے ۔
ملک کی کئی ریاستوں سے اس ریلی میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد کی روانگی بھی عمل میں آچکی ہے اور وہ ہفتے سے دہلی پہونچنا شروع بھی ہوجائیں گے ۔ اس ریلی کے ذریعہ کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ ملک میں جن کروڑوں افراد کو رائے دہی کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ان کی آواز بلند کرناچاہتی ہیں۔ ملک کے دوسرے عوام کے سامنے ایس آئی ار کے نام پر کی گئی بے قاعدگیوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ ایک طویل مدتی احتجاج کو ایک تاریخی انداز میں شروع کرنا چاہتی ہیں تاکہ ملک کے عوام میں اس تعلق سے شعور بیدار ہو اور وہ بھی احتجاج کیلئے آگے آئیں۔ اپنی اپنی ریاست میں اس احتجاج کو آگے بڑھایا جائے اور حکومت پر دباؤ کو مسلسل برقرار رکھا جائے ۔ انڈیا اتحاد میں شامل مختلف جماعتیں بھی اس ریلی کی تائیدو حمایت میں آگے آئی ہیں۔ خود دہلی میں جہاں کچھ تاجروں نے ریلی کو ملتوی کرنے کی بات کی تھی وہیں دوسرے تاجروں نے اس ریلی کیلئے اپنی تائیدو حمایت کا اظہار کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملک اور ملک کی جمہوریت سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ رائے دہی کا حق سب سے زیادہ اہم ہے اور اس کیلئے وہ ریلی کی تائیدو حمایت کرتے ہیں۔ تجارت کا سلسلہ پہلے سے جاری تھا اور آئندہ بھی جار ی رہے گا تاہم عوام کے جمہوری حقوق کو ختم کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے اور اس کے خلاف احتجاج کی ہر صورت میں تائید و حمایت کی جانی چاہئے ۔ تاجروں کا یہ جذبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔
اب جبکہ ریلی کیلئے محض ایک دن کا وقت باقی رہ گیا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس احتجا ج کو کس طرح سے آگے بڑھا پاتی ہیں اور رائے عامہ کو کس حد تک ہموار کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ ایک اچھی شروعات کے ذریعہ اس احتجاج کو عوامی احتجاج کی شکل دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں اور اس سے سماج کے تمام طبقات کو جوڑتے ہوئے انہیں بھی اس احتجاج کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے رائے دہی کے حق کیلئے خود بھی صدائے احتجاج بلند کرسکیں۔